سال کے سب سے چھوٹے دن اور طویل ترین رات کے چند دلچسپ حقائق

شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے چھوٹا جبکہ جنوبی نصف کرے میں طویل ترین دن ہے / فائل فوٹو
شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے چھوٹا جبکہ جنوبی نصف کرے میں طویل ترین دن ہے / فائل فوٹو

کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں آج سال کا سب سے چھوٹا دن اور طویل ترین رات ہے؟

سال کے مختصر ترین دن کو راس الجدی یا winter solstice کہا جاتا ہے۔

گزشتہ 6 ماہ یعنی 22 جون سے پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں دن کے دورانیے میں کمی آرہی تھی مگر اب معاملہ الٹا ہوجائے گا یعنی دن کا دورانیہ بتدریج بڑھنے لگے گا۔

راس الجدی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر موسم سرما کے آغاز کا پہلا دن ہے جس کا آغاز کچھ ممالک میں 21 جبکہ پاکستان میں 22 دسمبر کو ہوا۔

راس الجدی کے پیچھے چھپی سائنس

یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج سب سے زیادہ جنوب میں ہوتا ہے اور برج جدی سے گزر رہا ہوتا ہے۔

جنوبی نصف کرے میں صورتحال الٹ ہوتی ہے جہاں 22 دسمبر سال کا طویل ترین دن ہوگا۔

اس خطے میں ارجنٹینا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا جیسے ممالک موجود ہیں جہاں دنیا کی محض 10 فیصد آبادی مقیم ہے۔

عموماً شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے چھوٹا دن 21 یا 22 دسمبر کو ہوتا ہے۔

کس ملک میں سال کا چھوٹا دن 21 دسمبر کو ہوا یا 22 دسمبر کو ہوگا اس کے لیے مختلف ویب سائٹس جیسے ٹائم اینڈ ڈیٹ کام سے مدد لی جاسکتی ہے۔

کونسی جگہوں پر واقعی سب سے مختصر دن ہوتا ہے؟

اس موقع پر قطب شمالی میں دن کی روشنی ڈرامائی حد تک کم ہوتی ہے بلکہ وہاں لگ بھگ 24 گھنٹے تاریکی کا ہی راج ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں خط استوا کے شمال میں 85 میل دور واقع سنگاپور میں رہنے والوں کو کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں جون کے مقابلے میں دسمبر میں سورج غروب ہونے کے وقت میں محض 9 منٹ کی کمی آتی ہے۔

یعنی وہاں پورا سال لگ بھگ 12 گھنٹے کا دن رہتا ہے۔

پیرس میں 8 گھنٹے 14 منٹ طویل دن ہوتا ہے اور لگ بھگ 16 گھنٹے طویل رات ہوتی ہے۔

ناروے کے شہر اوسلو میں سورج صبح 9 بج کر 18 منٹ پر طلوع ہوکر سہ پہر 3 بج کر 12 منٹ پر غروب ہوجاتا ہے یعنی 6 گھنٹے سے بھی کم وقت میں۔

اس کے مقابلے میں اسلام آباد میں صبح 7 بج کر 8 منٹ پر سورج طلوع ہوکر شام 5 بج کر 4 منٹ پر غروب ہوجاتا ہے، یعنی لگ بھگ 10 گھنٹے میں۔

امریکی ریاست الاسکا کے علاقے Nome میں تو سورج کی روشنی 3 گھنٹے 54 منٹ تک ہی نظر آتی ہے جس کے بعد 20 گھنٹے طویل شب کا آغاز ہوجاتا ہے۔

ایسا ہوتا کیوں ہے؟

ہماری زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو راس الجدی کے موقع پر سورج قطب جنوبی کی جانب جھکا ہوتا ہے اور شمالی نصف کرے سے دور ہوتا ہے تو یہاں سردیوں کا آغاز ہوتا ہے۔

اس وجہ سے دن کا دورانیہ گھٹ جاتا ہے جبکہ موسم گرما میں اس سے الٹ ہوتا ہے۔

شمالی نصف کرے کے خطوں میں اگلے تین دنوں تک طلوع آفتاب کا وقت یہی رہے گا، البتہ سورج غروب ہونے کا وقت تبدیل ہوتا جائے گا۔