روشنی اور آواز سے الزائیمر کا مرض کم کرنے میں کامیابی

40 ہرٹز کی روشنی اور آواز مریض کو سنانے سے ڈیمنشیا اور الزائیمر میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل

الزائیمر کا مرض اس وقت دنیا بھر کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے جس کے علاج کی ایک غیر روایتی راہ سامنے آئی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ روشنی اور آواز کے ذریعے اس تکلیف دہ بیماری کی شدت کم کی جاسکتی ہے اور اس میں بہت فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

پبلک لائبریری آف سائنس ون میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ابتدائی تجربات میں یہ تھراپی مفید ثابت ہوئی ہے۔ تاہم ابھی کچھ مریضوں پر ہی اسے آزمایا گیا ہے۔ میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پروفیسر لائی ہوئے سائی اور ان کے ساتھیوں نے سات برس تک اس پر تحقیق کی ہے۔ دماغ میں بننے والے مضر پروٹین الزائیمر کی وجہ بنتے ہیں۔ ماہرین نے چوہوں پر خاص روشنی کے جھماکے ڈالے اور کچھ آوازیں سنائیں تو مضر پروٹین کم ہونے لگے۔ مسلسل غور سے معلوم ہوا کہ 40 ہرٹز کی روشنی جادوئی خواص رکھتی ہے اور علاج کے لیے موزوں قرار پائی۔

چوہوں کے بعد اس تھراپی کو اسپتال میں 43 مریضوں پر آزمایا جسے گیما ای این ٹرینمنٹ یوزنگ سینسری سیمولیشن (جینس) کا نام دیا یعنی ان پر مختصر وقفے کے لیے روشنی ڈالی گئی اور آوازیں سنائی گئیں جبکہ اس دوران ای ای جی سے دماغ کو نوٹ کیا جاتا رہا۔ لیکن اس میں تندرست افراد کے ساتھ ساتھ الزائیمر اور مرگی کے مریض بھی شامل تھے۔ معلوم ہوا کہ دماغ کے بہت سے حصے 40 ہرٹز کی فریکوئنسی کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔

مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس فریکوئنسی کی روشنی اور آواز بہت اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف حسیاتی مقامات کو سرگرم کر رہی ہے بلکہ ایمگڈالا، ہیپوکیمپس اور انسیولہ کو بھی جگاتی ہے۔

دوسرے تجربے میں 15 ایسے لوگ شامل تھے جنہیں ابتدائی درجے کی الزائیمر لاحق تھی۔ انہیں ایک آلہ دے کر کہا گیا کہ وہ اسے گھر لے جائیں اور ایک گھنٹے روزانہ استعمال کریں۔ اس آلے میں 40 ہرٹز روشنی خارج کرنے والی ایل ای ڈی اور اور اس کے ساتھ آواز خارج کرنے والا آئی پیڈ ٹیبلٹ اور اسپیکر لگا تھا۔ مریضوں نے آئی پیڈ پر ویڈیو دیکھی اور اس دوران ایل ای ڈی جھماکوں سے روشن ہوتی رہی۔ تین ماہ کے بعد جن افراد نے 40 ہرٹز کی روشنی اور آواز سنی تھی ان کے مرض میں واضح فرق سامنے آیا۔ اس کے بعد یادداشتی ٹیسٹ اور دوسری اشیا سے ان کی مزید آزمائش کی گئی۔

ایسے مریض قدرے مطمئن اور پرسکون نیند لینے لگے، یہاں تک کہ ان کی روزمرہ کارکردگی بھی بہتر ہونے لگی۔ اگلے مرحلے پر مریضوں کی ایک بڑی تعداد پر اسے آزمایا جائے گا۔