روس میں سوائن فلو کی واپسی، ڈبلیو ایچ او نے تہرے وائرس سے خبردار کردیا

روس میں سوائن فلو وائرس کے بعد عالمی ادارہ برائے صحت نے عام انفلوئنزا اور کووڈ 19 وائرس سے بھی خبردار کیا ہے۔ فوٹو: فائل

روس میں سوائن فلو وائرس کے بعد عالمی ادارہ برائے صحت نے عام انفلوئنزا اور کووڈ 19 وائرس سے بھی خبردار کیا ہے۔ فوٹو: فائل

جنیوا: دنیا میں 12000 افراد کو اپنا شکار بنانے والا وائرس دوبارہ سامنے آیا ہے جو ملک کے طول وعرض میں موجود ہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ اور نگرانی کی وفاقی سروس کی رپورٹ کےمطابق یہ سوائن فلو وائرس ہے جس کا تکنیکی نام ایچ ون این ون ہے جو نومبر کے اختتام پر ہی سامنے آنا شروع ہوگیا تھا۔ دوسری جانب کچھ روز قبل اقوامِ متحدہ کے تحت عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے یورپ اور اطراف کے ممالک میں تہرے وائرس کے حملے بھی خبردار کیا تھا۔

امریکا میں سینٹرفارڈیزیزکنٹرول( سی ڈی سی) کے مطابق اپریل 2009 سے 10 اپریل 2010 تک پوری دنیا میں سوائن فلو کے چھ کروڑ سے زائد کیس ہوئے تھے جن میں سے پونے تین لاکھ افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جبکہ 12496 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

روسی تنظیموں کے مطابق انفلوئنزا ون وائرس کی یہ عام قسم ہے جو پورے روس میں دیکھی گئ ہے اور دوسری جانب عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ اب موسمیاتی فلو کا ایک لازمی حصہ بنتا جارہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سانس کے امراض کی وجہ بننے والے تین مختلف وائرس اس موسمِ سرما میں یورپ اور وسطی ایشیائی ممالک پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اس سے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈبلیوایچ او نے اس ضمن میں ویکسینیشن پرزور دیا ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق تینوں وائرس میں عام انفلوئنزا، ریسپائریٹری سنکیشیئل وائرس (آرایس وی) اور کووڈ 19 وائرس شامل ہیں۔ تاہم ادارے نے سوائن فلو کا ذکر نہیں کیا تھا جو روس میں نمودار ہوچکا ہے۔