دنیا میں چھٹے نمبر پر موجود منہ کے سرطان کے کیسز میں سندھ میں تشویشناک اضافہ

سندھ میں گٹکا، پان اور چھالیہ کا استعمال بڑھ جانے کی وجہ سے منہ کے سرطان کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ فوٹو فائل

سندھ میں گٹکا، پان اور چھالیہ کا استعمال بڑھ جانے کی وجہ سے منہ کے سرطان کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ فوٹو فائل

منہ کا کینسر دنیا بھر میں مختلف اقسام کے کینسر میں چھٹے نمبر پر ہے اور اس میں سے ایک تہائی کیسز جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان، انڈیا، سری لنکا، نیپال سے آتے ہیں کیونکہ ان ممالک میں پان چھالیہ کا استعمال زیادہ ہے۔

پاکستان خصوصاً سندھ میں گٹکا، پان اور چھالیہ کا استعمال بڑھ جانے کی وجہ سے منہ کے سرطان کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔

لیاقت میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز جامشورو میں 3 روزہ انٹرنیشنل اکیڈمک ریسرچ سمٹ میں ملکی و غیر ملکی طبی ماہرین شعبہ طب میں نئی تحقیق اور جدید طریقہ علاج کے حوالے سے اپنے ریسرچ آرٹیکل پیش کر رہے ہیں، سمٹ کے دوسرے روز لمس کے آڈیٹوریم ہال میں پروفیسر ڈاکٹر اقبال خیانی، پروفیسر ڈاکٹر مشتاق میمن، و دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اورل کینسر کی شروعات میں تشخیص سے علاج بہتر ہوجاتا ہے۔

لمس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اجن کا کہنا تھا کہ سمٹ میں دنیا بھر سے آئے طبی ماہرین آئے ہیں، جو اپنے تجربات اور ریسرچ ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ریسرچ سمٹ کے انعقاد سے علاج کے بہتر اور جدید طریقوں سے آگہی ہوتی ہے۔