دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کیلئے امید کی کرن، اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن ہوگا

فوٹو: بی بی سی

فوٹو: بی بی سی

دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کیلئے امید کی کرن، برطانیہ کے اسپتال میں بچے کے دل کی خرابی کو درست کرنے کیلئے ابتدائی اسٹیم سیل "سکافولڈنگ” کا کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔

برسٹل ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ماسیمو کیپیوٹو نے اسٹیم سیلز انجیکٹ کر کے فِن لی نامی دو سالہ بچے کے دل میں موجود نقص کا کامیابی سے علاج ممکن بنا لیا۔

پروفیسر کیپیوٹو کا کہنا ہے کہ فن لی پیدائشی طور پر دل کے نقص میں مبتلا تھا اور اپنی پیدائش کے صرف چار دن بعد اس کی اوپن ہارٹ سرجری کی گئی تھی تاہم بدقسمتی سے سرجری سے بھی بچے کا مسئلا حل نہ ہو پایا اور دل کی بائیں جانب خون کے کم بہاؤ کے باعث بچے کی دل کی کام کرنے کی صورتحال بگڑتی گئی۔

اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بچے کو زندہ رکھنے کیلئے مشینوں پر رکھا گیا تھا اور آئی سی یو میں کئی ہفتے زیر علاج رہنے کے باوجود فن لی  کیلئے کوئی کنوینشل طریقہ  علاج موجود نہیں تھا بس دوائیوں  اور مشینوں کی مدد سے اس کے دل کی دھڑکن جاری رکھی جا رہی تھی۔ 

 ڈاکٹر کیپیوٹو  نے بتایا کہ بعد ازاں پلیسینٹا بینک سے لیے گئے اسٹیم سیلز کو استعمال  کرنےکا ایک نیا طریقہ آزمایا گیا،  کروڑوں اسٹیم سیل بچے کے دل کے مسلز میں اس امید پر انجیکٹ کئے گئے کہ وہ بچے کے دل کی متاثرہ شریانوں کو بڑھنے اور ریکور کرنے میں مدد کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ’’ایلوجینیک سیل‘‘ نامی یہ سیل ٹشوز میں بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور فن لی کے معاملے میں بھی اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا تھا، اور ان سیلز نے بچے کے دل کے متاثرہ مسلز کو ری جنریٹ کرکے دکھا دیا۔

پروفیسر کیپیوٹو اوران کی ٹیم کا کہنا تھا کہ آپریشن کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں، انہوں نے فن لی نامی اس بچے کی دوائیاں روک کر  اسے وینٹیلیشن سے ہٹا دیاگیا ہے اور اب اسے انٹینسو تھراپی یونٹ (ITU) سے بھی ڈسچارج کر دیا گیا ہے، فن لی اب ایک صحت مند بڑھتا ہوا بچا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کو متعدد آپریشنز سے بچایا جا سکے گا۔