وہ ٹرین جو کسی طیارے سے بھی زیادہ تیزرفتاری سے سفر کرسکے گی

اس منصوبے کا آغاز 2023 کے آخر تک ہوسکتا ہے / فوٹو بشکریہ ٹرانس پوڈ
اس منصوبے کا آغاز 2023 کے آخر تک ہوسکتا ہے / فوٹو بشکریہ ٹرانس پوڈ

کینیڈا کی ایک کمپنی نے ایسی ٹرین متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔

ٹرانس پوڈ نامی کمپنی نے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درحقیقت طیارے اور ٹرین کا ‘ہائبرڈ ماڈل’ ہے۔

اسے FluxJet کا نام دیا گیا ہے کہ یہ کافی حد تک ایلون مسک کے اعلان کردہ کانسیپٹ ہائپر لوپ سے ملتا جلتا منصوبہ ہے۔

یہ ٹرین ایک ٹیوب نما ٹریک پر بہت زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرسکے گی اور اس رفتار کے حصول کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا۔

اس ٹیوب کو ٹرانس پوڈ لائن کا نام دیا جائے گا جبکہ اہم شہروں اور مقامات پر اسٹیشن تعمیر کیے جائیں گے۔

یہ ایک ٹیوب میں سفر کرے گی / فوٹو بشکریہ ٹرانس پوڈ
یہ ایک ٹیوب میں سفر کرے گی / فوٹو بشکریہ ٹرانس پوڈ

کمپنی کے مطابق اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر 18 ارب ڈالرز خرچ ہوسکتے ہیں جس کے مکمل ہونے پر کینیڈا کے 2 شہروں Calgary اور Edmonton کے درمیان اسے چلایا جائے گا۔

دونوں شہروں کے درمیان 300 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

کمپنی کا تو دعویٰ ہے کہ یہ ٹرین کسی طیارے سے بھی زیادہ تیزی سے سفر کرسکے گی جبکہ اس کی رفتار کسی ہائی اسپیڈ ٹرین سے 3 گنا زیادہ ہوگی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز 2023 کے آخر تک ہوسکتا ہے جبکہ اسے 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔

یہ ٹرین مکمل طور پر بجلی پر کام کرے گی اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس نئے نظام سے سڑکوں پر ٹریفک میں بھی کمی آئے گی۔

کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس ٹرین کا سفر کسی طیارے کے مقابلے میں 44 فیصد سستا ہوگا۔