[ADINSERTER AMP] [ADINSERTER AMP]

مصوری کا مقابلہ ’مصنوعی ذہانت‘ نے جیت لیا

امریکا میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ تصویر نے پہلا انعامی مقابلہ جیت لیا جس پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا میں اس وقت سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑی ہے۔ اس کی وجہ مصوری کے مقابلے میں اول انعام مصنوعی ذہانت (اے آئی) سافٹ ویئر دینا ہے۔

کولاراڈو میں منعقدہ اس مقابلے میں انسان بھی شامل تھے جسے فیئر فائن آرٹس مقابلے کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں ڈیجیٹل آرٹ کا ایک نمونہ بازی لے گیا جسے جیسن ایلن نامی شخص نے سافٹ ویئر کی مدد سے بنایا تھا۔

جیسن نے تصاویر پروسیس کرنے والا ایک تجارتی سافٹ ویئر ’مڈجرنی‘ استعمال کیا۔ انہوں نے ایک سرور کی بدولت تین تصاویر کو کچھ بدلا، بڑا کیا اور انہیں ملا کر کینوس پر منتقل کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس تخلیق کو اگست میں مقابلے کے لیے پیش کردیا تھا۔ اس کے بعد ایک تخلیق کو اول انعام کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔

اگرچہ اس مقابلے میں انسانی مصوری بھی شامل تھے لیکن مصنوعی ذہانت کی بنا پر بنائی گئی اس تخلیق کی پذیرائی نے فیس بک سے ریڈاِٹ تک ہرمقام پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک نے لکھا کہ انسانی تخلیق کار اور تخلیق کی تباہی کا وقت آچکا ہے۔ دوسرے کی رائے تھی کہ تمام مصور اب مشین استعمال کریں نا کہ کسی مصوری پر وقت ضائع کریں۔

لیکن سب سے اہم سوال منتظمین پر اٹھایا گیا اور پوچھا گیا ہے کہ آیا جیسن نے مقابلے کے ججوں کو اس سے آگاہ کیا تھا یا نہیں؟ بعض افراد نے کہا کہ مشین سے بنی یہ تصویر انسانی آنکھ کو دھوکہ دے سکتی ہے اور شاید جج بھی اس کی خوبصورتی کے جھانسے میں آ گئے ہیں۔