دنیا میں 4 روزہ کاروباری ہفتے کا سب سے بڑا ٹرائل کس حد تک کامیاب ثابت ہوا؟

برطانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا ٹرائل جاری ہے / رائٹرز فوٹو
برطانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا ٹرائل جاری ہے / رائٹرز فوٹو

کیا کبھی آپ نے تین دن کی ہفتہ وار چھٹیاں ملنے کی خواہش کی ہے؟ اگر ہاں تو برطانیہ میں اس حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ٹرائل جاری ہے۔

جون 2022 میں برطانیہ میں 4 روزہ کاروباری ہفتے کا ٹرائل شروع ہوا تھا اور اب اس کے ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں۔

گارٹنر نامی ادارے کے تحت اس ٹرائل میں شامل کمپنیوں میں ایک سروے کیا گیا تھا۔

اس سروے میں 70 سے زیادہ برطانوی کمپنیوں کے 78 فیصد حکام نے کہا کہ 4 روزہ کاروباری ہفتے کی منتقلی اچھی ثابت ہوئی، جبکہ صرف 2 فیصد نے اسے مشکل قرار دیا۔

88 فیصد عہدیداران کا کہنا تھا کہ 4 روزہ کاروباری سرگرمیوں کا تجربہ بہترین انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔

سروے میں دریافت کیا کہ مختصر کاروباری ہفتہ بھرتیوں کے حق میں بھی بہتر ثابت ہورہا ہے۔

6 ممالک کی 180 سے زیادہ کمپنیوں کی جانب سے 4 روزہ کاروباری ہفتے کے پائلٹ پروگرامز پر کام ہورہا ہے، جہاں ملازمین کے کام کے گھنٹوں کو 32 گھنٹے تک محدود کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں جاری پائلٹ پروگرام میں شامل 33 سو ملازمین کو سروے کا حصہ بنایا گیا تھا۔

برطانیہ میں یہ پروگرام 4 ڈے ویک گلوبل کمپین، ایک تھنک ٹینک Autonomy، بوسٹن کالج، کیمبرج یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے شروع کیا گیا تھا۔

اس پائلٹ پروگرام میں شامل 86 فیصد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ نومبر میں ٹرائل ختم ہونے کے بعد بھی وہ 4 روزہ شیڈول کو برقرار رکھنا پسند کریں گی۔

لگ بھگ 49 فیصد کمپنیوں نے کہا کہ اس پروگرام سے لوگوں کی تعمیری صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔

4 ڈے ویک گلوبل کے سی ای او Joe O’Connor نے کہا کہ اگر تعمیری صلاحیت اپنی جگہ مستحکم رہتی ہے تو بھی یہ ہماری نظر میں بڑی کامیابی ہوگی۔

اس ادارے کے تحت برطانیہ، امریکا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، آئرلینڈ اور کینیڈا میں 4 روزہ کاروباری ہفتے کے پائلٹ پروگرامز میں کام کیا جارہا ہے۔

Joe O’Connor نے بتایا کہ ٹرائل میں شامل تمام کمپنیوں نے اسے مکمل نہیں کیا اور ابتدائی مرحلے میں ہر 5 میں سے ایک کمپنی نے پروگرام سے علیحدگی اختیار کرلی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کی علیحدگی کی بنیادی وجہ ضرورت سے زیادہ سوچنا تھا، ان کی جانب سے ٹرائل شروع ہونے سے قبل ہی تمام ممکنہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ ناممکن تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ جگہوں پر عہدیداران اور ملازمین کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ٹرائل سے علیحدگی کا باعث بنا۔

Joe O’Connor نے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں کمپنیوں کو ہماری ضرورت تھی، مگر جب ان کی جانب سے ہم سے رابطہ کم ہونے لگا تو اس کا مطلب تھا کہ وہ اس حوالے سے مثبت پیشرفت کررہی ہیں۔