خشک سالی کے باعث 11 کروڑ برس قدیم ڈائنوسار کے نقوشِ پا دریافت

ٹیکساس کے ایک پارک میں دریا خشک ہونے سے نیچے ڈائنوسار کے نقوشِ پا دریافت ہوئے ہیں۔ فوٹو: سی این این

امریکا میں جاری شدید گرمی اور خشک سالی سے ایک دریائی نالہ خشک ہونے سے وہاں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دیکھے گئے ہیں جو لگ بھگ 11 کروڑ 30 لاکھ (113 ملین) سال قدیم ہیں۔

خیال ہے کہ کروڑوں برس قبل ایک بڑا ڈائنوسار یہاں سے گزرا تھا۔ یہ علاقہ ڈیکساس کی مشہوری ڈائنوسار وادی کا حصہ ہے جو اس سے قبل بھی ایسی ہی دریافتوں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔

پارک انتظامیہ کے مطابق دریا بالکل خشک ہونے سے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا ایک طویل سلسلہ سامنے آیا ہے جو درحقیقت ’ایکروکینتھوسارس‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس ڈائنوسار کی اونچائی 15 فٹ اور وزن لگ بھگ 7 ٹن تھا۔

پارک کی ترجمانی اسٹیفینی سیلیناس گارشیا کے مطابق شدید گرمی سے ٹیکساس بھر میں مشکلات ہیں لیکن پارک کے علاقے میں گھاس پھوس کا نقصان ہوا ہے اور دریا بھاپ بن کر اڑچکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے مقام پر سوروپوڈ نسل کے ڈائنوسار کے نشانات ملے ہیں جن کی گردن سے دم تک لمبائی 60 فٹ اور وزن 44 ٹن تک تھا۔

خشک سالی سے کئی مقامات پر دریا کا فرش واضح ہوچکا ہے، جس کے بعد نقوشِ پا دریافت ہوئے ہیں۔ تاہم توقع ہے کہ یہ نشانات بارشوں کے موسم میں دریا میں پانی بھرنے سے دوبارہ ڈوب جائیں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت دنیا بھر میں قدیم جانوروں کے قدموں کے نشانات موسم زدگی اور ٹوٹ پھوٹ سےمحفوظ رہتے ہیں۔