تسمانیہ کے 14 سالہ بچے نے خفیہ ایجنسی کا تیارکردہ معمہ ایک گھنٹےمیں حل کردیا

دوسری جانب اے ایس ڈی کی سربراہ راشیل نوبل نے کہا ہے کہ وہ اس لڑکے سے رابطہ کررہی ہیں اور اسے ملازمت کی پیشکش کی جائے گی۔

چاندی کے ایک سکے پر انٹیلی جنس اور سائبرسیکیورٹی ماہرین کی جانب سے اعداد اور حروف پر مشتمل مشکل ترین کوڈ ایک 14 سالہ بچے نے صرف ایک گھنٹے میں حل کرلیا ہے۔

آسٹریلیا میں خارجہ انٹیلی جنس سے وابستہ سائبرسیکیورٹی ٹیم نے 50 پیسے کا یادگاری سکہ جاری کیا تھا جس پر لکھے کوڈ کے پانچ مراحل تھے اور ان میں سے چار درجے کا معمہ تسمانیہ کے ایک لڑکے نے صرف ایک گھنٹے میں حل کردیا ہے۔ تاہم اس کا پانچواں مرحلہ بہت مشکل ہے جسے اب تک کوئی حل نہیں کرسکا ہے۔

اس جمعرات کو آسٹریلیئن سگنلز ڈائرکٹریٹ (اے ایس ڈی) نے اپنی 75 ویں سالگرہ پر یہ سکہ جاری کیا ہے۔ اس کی پشت پر پانچ درجے کا معمہ (کوڈ) تھا جو جس کا ہر مرحلہ بتدریج مشکل ہوتا جاتا ہے۔ معمہ حل کرنے کے اشارے سکے کے دونوں جانب موجود ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ایک گھنٹے بعد ہی ایک نوعمر لڑکے نے اس کے چار درجے بیان کردیئے جس پر خود ماہرین اور کوڈ بنانے والے بھی حیران ہیں کیونکہ یہ ایک مشکل چیلنج تھا۔

سکے کے دونوں رخ کی تفصیلی تصویر صبح 8 بج کر 45 منٹ پر جاری کی گئی اور عوام سے ایک فارم بھر کر معمہ حل کرنے کی اپیل کی گئی اور حیرت انگیز طور پر ایک گھنٹے بعد ہی اس کا جواب ایک 14 سالہ لڑکے نےدیدیا۔ اس کا تعلق تسمانیہ سے تھا اور اس نے درست انداز میں چاروں درجے کے کوڈ کا معمہ سلجھا لیا تھا۔