تربیت یافتہ کتے پانی میں خطرناک مچھلیوں کی نشان دہی بھی کرسکتے ہیں

کتے کی سونگھنےکی حس انسان کی نسبت10  ہزار سے1 لاکھ گُنا زیادہ ہوتی ہے

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کتے جھیلوں میں موجود خطرناک مچھلیوں کے متعلق انہیں دیکھے بغیر سونگھ کر بتاسکتے ہیں۔

دنیا بھر کی جھیلوں اور دریاؤں میں کارپ مچھلی مقامی آبی جان داروں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ وسطی ایشیاء کی مقامی یہ مچھلی جھیلوں اور دریاؤں کو بڑے پیمانے پر بھر کر دوسرے جانوروں کے لیے مسائل کھڑے کر دیتی ہے لیکن اب سائنس دانوں نے اس جارح مزاج مخلوق سے لڑنے کے لیے کتے کی صورت میں ایک نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سدھائے ہوئے کتے پانی میں ان خطرناک کارپ مچھلیوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے مصنفین نے لکھا کہ مطالعے کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ کتے اس جارح مزاج مچھلی کی نشان دہی کے لیے ایک درست اور انتہائی حساس طریقہ کار فراہم کرسکتے ہیں۔

کتے کی سونگھنے کی حس انسان کی بہ نسبت 10 ہزار سے 1 لاکھ گُنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس تکنیک کی آزمائش کےلیے یونیورسٹی آف وائیکاٹو اور یونیورسٹی آف کینبیرا کے سائنس دانوں نے رُوبی نامی ایک کتیا کے سامنے پانی کے نمونے پیش کیے۔

جن ٹنکیوں سے پانی لیا گیا تھا ان میں سے کچھ میں کارپ یا گولڈ فش موجود تھیں جبکہ کچھ ٹنکیاں صاف پانی سے بھری ہوئی تھیں۔

رُوبی کو مچھلی کی خوشبو درست پہچاننے کے لیے بالکل ویسے ہی تربیت دی گئی تھی جیسی تربیت پولیس منشیات کی نشان دہی کے لیے کتوں کودیتے ہیں۔ رُوبی پانی کے شدید گدلے ہونے کے باوجود بھی مچھلی کی نشان دہی کر سکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگر 20 لاکھ لیٹر پانی میں ایک کلو کارپ ڈال دی جائے تو کتے کو اس کا علم ہو جائے گا کہ وہ وہاں موجود تھی۔