بھنبھیری کی 16 فیصد اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار، یہ ماحول کیلئے کیوں ضروری ہے؟

۔ بارشوں کے بعد ہر سو پھیلی ہریالی نے کراچی میں ڈریگن فلائیز کی واپسی تو ممکن بنادی ہے لیکن ان کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے— فوٹو: فائل

۔ بارشوں کے بعد ہر سو پھیلی ہریالی نے کراچی میں ڈریگن فلائیز کی واپسی تو ممکن بنادی ہے لیکن ان کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے— فوٹو: فائل

موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں ماحولیاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر تمام حشرات کی انواع 40فیصد کم ہو رہی ہیں۔

کیڑوں کی بغیر زندگی سننے میں شاید اچھی لگے لیکن یہ حشرات ہی ہیں جو متوازن نظام زندگی میں اہم کرار ادا کرتے ہیں۔ بارشوں کے بعد ہر سو پھیلی ہریالی نے کراچی میں ڈریگن فلائیز (بھنبھیری) کی واپسی تو ممکن بنادی ہے لیکن ان کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے۔

بھنبھیری کو پکڑنے کی جستجو بچپن میں سب کو ہوتی ہے لیکن ہم بے خبر ہیں کہ 360 ڈگری میں دیکھنے والی بڑی آنکھِیں اور چار پروں کے ساتھ برق رفتار پرواز بھنبھیری کا ماحول میں کردارکسی سپاہی سے کم نہیں۔ یہ ڈینگی اور ملیریا پھیلانے والے مچھروں سمیت زہریلے حشرات کا خاتمہ کرکے ماحول کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بھنبھیری جسے ہم پچپن میں جہاز یا ہیلی کاپٹر کہا کرتے تھے وہ اب کم کم نظر آتی ہیں۔ آئی یو سی این کے مطابق ماحولیاتی نظام کی محافظ بھنبھیری کی 16 فیصد اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ دراصل وہ فطری رضاکار ہیں جو صرف ایک دن میں 30 سے 100 قریب مچھروں کا شکار کرکے ان کے خاتمے کو یقینی بناتی ہیں اورہمیں ڈینگی اور ملیریا کے خطرات سے بچاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2020 میں دنیا بھر میں 24 کروڑ سے زائد افراد ملیریا سے متاثر ہوئے جن میں سے 6 لاکھ سے زائد جان سے گئے ۔ ایسے ہی ہر سال 10 سے 40کروڑ افراد ڈینگی سے متاثر ہوتے ہیں۔

کرہ ارض پر 30 کروڑ سال پہلے آنے والی بھنبھیری کا شمار ان اولین حشرات میں ہوتا ہے جن کو قدرت نے سب سے پہلے پر عطا کیے تھے۔

تحقیق کے مطابق بڑھتی گرمی کے باعث نر ڈریگن فلائیز اپنے پروں کی سجاوٹ کھورہا۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ مادہ ڈریگن فلائیز نر کو پہچان نہیں پائیں گی اوریوں بڑھتے درجہ حرارت سے ان کی نسل کو خطرات لاحق رہیں گے۔

بھنبھیری کا معدوم ہونا ماحولیاتی نظام کی بقا اور ہم انسانوں کی صحت کیلئے نقصان دہ ہوگا۔