بچوں کی بینائی ختم ہونے سے قبل دنیا گھومنے کیلئے جانے والا خاندان

یہ خاندان مارچ 2022 میں ورلڈ ٹور پر روانہ ہوا / فوٹو بشکریہ ایڈتھ لیمے انسٹاگرام اکاؤنٹ
یہ خاندان مارچ 2022 میں ورلڈ ٹور پر روانہ ہوا / فوٹو بشکریہ ایڈتھ لیمے انسٹاگرام اکاؤنٹ

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایڈتھ لیمے اور ان کے شوہر سبسٹین Pelletier کو جب علم ہوا کہ ان کے 4 میں سے 3 بچوں کو ایک ایسے جینیاتی مرض retinitis pigmentosa کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں وہ آنے والے وقت میں بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔

تو اس جوڑے نے دنیا کے سفر کا آغاز کیا تاکہ ان کے بچوں کی ‘بصری یادیں’ تشکیل پاسکیں۔

ایڈتھ اور سبسٹین کی 12 سالہ بیٹی میا، 7 سالہ بیٹے کولن اور 5 سالہ لیورنٹ میں بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ 9 سالہ بیٹا لیو محفوظ قرار دیا گیا۔

اس بیماری کا ابھی کوئی ایسا مؤثر علاج دستیاب نہیں جس سے بیماری سے نجات مل جائے یا اس کے بڑھنے کی رفتار کم ہوجائے۔

اس جوڑے کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کے بچے نابینا ہوسکتے ہیں۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ایڈتھ لیمے نے بتایا کہ جب میا کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے ‘بصری یادوں’ کا مشورہ دیا تو انہیں دنیا گھومنے کا خیال آیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں نے سوچا کہ کتاب کی بجائے انہیں حقیقی ہاتھی دکھانے لے جاؤں، میں اپنی بیٹی کو بہترین اور خوبصورت تصاویر پر مشتمل یادوں کا تحفہ دینا چاہتی ہوں’۔

اس مقصد کے لیے اس خاندان نے بچت کرنا شروع کی، کورونا کی وبا کے باعث ان کا ورلڈ ٹور کچھ عرصے کے لیے تاخیر کا شکار ہوا اور یہ 6 افراد مارچ 2022 کو روانہ ہوئے۔

اب وہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے دنیا گھوم رہے ہیں۔

اس جوڑے کا مقصد ایسی چیزوں کا تجربہ کرنا ہے جو گھر میں کرنا ممکن نہیں۔

ان کے سفر کا آغاز افریقی ملک نمیبیا سے ہوا جہاں انہوں نے ہاتھی، زیبرے اور زرافے دیکھے، جس کے بعد وہ زیمبیا اور تنزانیہ گئے۔

وہاں سے وہ ترکی پہنچے، پھر منگولیا سے ہوتے ہوئے انڈونیشیا چلے گئے۔

ایڈتھ لیمے نے کہا کہ ‘ہمارے بچوں کو اپنی آنے والی زندگی میں جدوجہد کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ میا، کولن اور لیورنٹ کی بینائی مسلسل خراب ہورہی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سفر سے آپ کافی کچھ سیکھتے ہیں، یہ تفریح کے ساتھ ساتھ مشکل کام بھی ہوتا ہے، کیونکہ آپ تھک جاتے ہیں، چڑچڑے ہوجاتے ہیں، تو سفر سے آپ کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں’۔

یہ جوڑا اپنے سفر کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کررہا ہے اور اسے توقع ہے کہ مختلف ممالک کے تجربات سے ان کے بچوں کو اندازہ ہوگا کہ وہ کتنے خوش قسمت ہیں۔

ایڈتھ نے بتایا کہ ‘زندگی چاہے جتنی بھی مشکل ہوجائے، میں ان کے سامنے ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ وہ کتنے خوش قسمت ہیں کیونکہ وہ ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں گھر میں پانی آتا ہے اور وہ روز اسکول جاسکتے ہیں’۔

اگرچہ اس جوڑے کو معلوم ہے کہ آنے والا وقت مشکل ہوگا مگر ان کی پوری توجہ اس وقت مثبت پہلوؤں پر مرکوز ہے اور اپنے بچوں کو ایسا تجربہ فراہم کرنا چاہتے ہیں جو طویل المعیاد بنیادوں پر ان کے کام آسکے۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں کے درمیان ٹھوس تعلق قائم ہورہا ہے جس سے توقع ہے کہ زندگی بھر وہ ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے۔

اس خاندان نے پہلے مارچ 2023 تک اپنے گھر واپس لوٹ جانے کا منصوبہ بنایا تھا مگر اب ایسا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ وہ اپنے سفر سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

اس جوڑے کو توقع ہے کہ سائنس ان کے بچوں کی بیماری کا کوئی حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائے گی۔