جب طیارے کی پرواز ‘ٹائم ٹریول’ کرتے ہوئے 2023 سے 2022 میں چلی گئی

یہ پرواز جنوبی کوریا سے امریکا پہنچی تھی / فائل فوٹو
یہ پرواز جنوبی کوریا سے امریکا پہنچی تھی / فائل فوٹو

کیا ٹائم ٹریول یعنی وقت میں آگے یا پیچھے سفر کرنا ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب تو ابھی سائنسدان دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

مگر یونائٹیڈ ائیرلائنز کے بوئنگ 777-300 طیارے نے ایسا کچھ ضرور کیا جسے مکمل ٹائم ٹریول تو نہیں کہا جاسکتا مگر کچھ حد تک اس سے ملتا جلتا ضرور ہے۔

یہ طیارہ 2023 میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول سے اڑان بھر کر امریکا میں 2022 میں اترا۔

فلائٹ راڈار 24 کے مطابق طیارے میں سوار مسافروں نے تکنیکی طور پر ماضی میں ایک دن پیچھے سفر کیا کیونکہ یہ طیارہ مختلف ٹائمز زونز سے گزر کر منزل تک پہنچا تھا۔

یہ طیارہ سیئول سے یکم جنوری 2023 کو وہاں کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:29 کو روانہ ہوا اور 31 دسمبر کی شام 5 بج کر ایک منٹ پر سان فرانسسکو پر اترا۔

سیئول کا وقت سان فرانسسکو کے وقت کے مقابلے میں 17 گھنٹے آگے ہے۔

بحرالکاہل کے درمیان سے گزرنے والی انٹرنیشنل ڈیٹ لائن نے اس ‘ٹائم ٹریول’ کو ممکن بنایا۔

طیارے کا مجموعی سفر تو 9 گھنٹے 46 منٹ کا تھا مگر انٹرنیشنل ڈیٹ لائن کے عجیب نظام کے باعث گھڑیوں میں وقت آگے کی بجائے پیچھے کی جانب گیا۔

یعنی اس پرواز میں سوار افراد نے 2 بار نئے سال کا جشن منایا ہوگا۔

ویسے تو گیا وقت پھر واپس لوٹ کر نہیں آتا مگر ٹائم زون کے کے عجیب و غریب حساب سے ایسا ممکن بھی ہوجاتا ہے۔