’تیری ناک ٹوٹ گئی، اسپتال جانا پڑیگا‘ ٹندولکر میانداد کے الفاظ یاد کیے بغیر نہ رہ سکے

1989 میں پاکستان کے خلاف چوتھے ٹیسٹ کے دوران  سچن ٹنڈولکر وقار یونس کے باؤنسر پر شدید انجری کا شکار ہوگئے تھے تاہم سچن نے زخمی ہونے کے باوجود بیٹنگ جاری رکھی تھی/فوٹوفائل

1989 میں پاکستان کے خلاف چوتھے ٹیسٹ کے دوران  سچن ٹنڈولکر وقار یونس کے باؤنسر پر شدید انجری کا شکار ہوگئے تھے تاہم سچن نے زخمی ہونے کے باوجود بیٹنگ جاری رکھی تھی/فوٹوفائل

بھارت کے سابق کپتان اور  دنیائے کرکٹ کے عظیم بیٹرز میں سے ایک سچن ٹنڈولکر نے پاکستان کے خلاف میچ میں اپنی انجری کے حوالے سے سابق کپتان جاوید میانداد سے متعلق ایک دلچسپ واقعے کو یاد کیا ہے۔

1989 میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ڈیبیو کرنے والے سچن ٹنڈولکر  نے ایک تقریب کے دوران وقار یونس کی گیند سے شدید زخمی ہونے پر خود سے متعلق جاوید میانداد کے کیے گئے تبصرے سے پردہ اٹھایا۔

پاکستان کے خلاف چوتھے ٹیسٹ کے دوران وقار یونس کے باؤنسر پر بھارتی بیٹر سچن ٹنڈولکر کو  شدید نوعیت کی چوٹ لگ گئی تھی تاہم زخمی ہونے کے باوجود ٹنڈولکر نے بیٹنگ جاری رکھی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے جاوید میانداد کے تبصرے پر بات کرتے ہوئے سچن نے بتایا کہ’ وہ میرا پاکستان کے خلاف پہلا میچ تھا اور ہم چوتھا ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے، پہلے3 میچ ڈرا ہو چکے تھے، چوتھے میچ کی آخری اننگز میں ہمارے 36 پر 4 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، اس دوران وقار یونس کا باؤنسر میری ناک پر لگا، میں نے گرل پہنی ہوئی تھی لیکن میری ناک ٹوٹ گئی تھی اور خون بہہ رہا تھا‘۔

سچن ٹنڈولکر نے بتایا کہ مجھے گیند لگنے کے بعد میچ رک گیا تھا اور اس وقت پاکستانی کھلاڑیوں نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ ایک نازک لمحہ ہے، اگر میں چلا جاتا تو میچ میں پاکستان ٹیم بھارت پر غالب آجاتی کیونکہ پاکستان میچ کو جیت کر ختم کرنا چاہتا تھا، ایسے میں ایک آواز جاوید میانداد کی تھی جو مجھے جھنجھوڑ رہی تھی، وہ کہہ رہے تھے ’تیری ناک ٹوٹ گئی ہے تجھے اسپتال جانا پڑے گا، جس کے بعد عمران خان نے کہا جاوید اسے اکیلا چھوڑ دو‘۔

بھارت کے سابق کپتان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد بھی میں نے بیٹنگ جاری رکھی اور  مجھے خوشی ہے کہ اس انجری کے باوجود میں ڈریسنگ روم نہیں گیا اور ہم نے میچ کے ساتھ سیریز بھی ڈرا کی‘۔