ہر 4 سیکنڈ میں ایک فرد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہونے لگا

238 این جی اوز نے ایک کھلے خط میں یہ انکشاف کیا / اے پی فوٹو
238 این جی اوز نے ایک کھلے خط میں یہ انکشاف کیا / اے پی فوٹو

ہر 4 سیکنڈ میں ایک فرد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے۔

یہ انکشاف 200 سے زیادہ این جی اوز نے ایک کھلے خط میں کرتے ہوئے بھوک کے بحران کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اقدامات پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر 75 ممالک سے تعلق رکھنے والی 238 این جی اوز بشمول آکسفیم اور سیو دی چلڈرن نے ایک کھلے خط کو جاری کیا۔

اس خط میں کہا گیا کہ ‘دنیا بھر میں 34 کروڑ 50 لاکھ افراد کو خوراک دستیاب نہیں، اس تعداد میں 2019 سے دگنا اضافہ ہوا ہے’۔

خط کے مطابق عالمی رہنماؤں کی جانب سے 21 ویں صدی میں قحط سالی کے خاتمےکے وعدوں کے باوجود دنیا بھر کے 45 ممالک میں 5 کروڑ افراد قحط سالی کی زد میں ہیں۔

این جی اوز کا کہنا تھا کہ روزانہ 19 ہزار 700 افراد بھوک کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں، یعنی ہر 4 سیکنڈ میں بھوک ایک شخص کی جان لے لیتی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ زراعت اور کاشتکاری کے حوالے سے دستیاب جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود ہم 21 ویں صدی میں قحط سالی کی بات کررہے ہیں جو قابل قبول نہیں۔

خط کے مطابق یہ کسی ایک ملک یا براعظم کی بات نہیں اور بھوک کی کوئی ایک وجہ نہیں، یہ پوری انسانیت کے لیے ناانصافی ہے۔