کورونا وائرس کی تمام اقسام میں موجود ‘کمزور حصہ’ دریافت کرلیا گیا

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

کورونا وائرس کی وبا کو ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے جس دوران ویکسینز بھی تیار ہوچکی ہیں مگر اب بھی ہر ہفتے ہزاروں کیسز اور اموات رپورٹ ہوتے ہیں۔

مگر اب سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی تمام اقسام کی ‘اہم ترین کمزوری’ دریافت کرلی ہے جس کو وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز سے ہدف بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برٹش کولمبیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اس دریافت سے ایسے طریقہ علاج کو تشکیل دینا ممکن بن جائے گا جو دنیا بھر میں مؤثر ثابت ہوگا۔

تحقیق کے دوران کرائیو الیکٹرون مائیکرو اسکوپی کو استعمال کرکے وائرس کے اسپائیک پروٹین میں موجود کمزور حصے epitope کو دریافت کیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک اینٹی باڈی جز VH Ab6 وائرس کے اس حصے سے جڑنے اور وائرس کی تمام اقسام کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ وائرس بہت تیزی سے تبدیل ہوکر اس وقت دستیاب بیشتر اینٹی باڈی ٹریٹمنٹس پر حملہ آور ہونے، ویکسینیشن اور بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق میں تمام اقسام میں تبدیل نہ ہونے والے کمزور حصے اور ناکارہ بنانے والے اینٹی باڈیز کے انکشاف سے ایسے طریقہ علاج کو تیار کرنا ممکن ہوجائے گا جو متعدد افراد کے لیے مددگار ثابت ہوسکے گا۔

ہمارا جسم بیماریوں سے لڑنے کے لیے قدرتی طور پر اینٹی باڈیز بناتا رہتا ہے جبکہ لیبارٹریز میں بھی انہیں مختلف امراض کے علاج کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

کووڈ کے علاج کے لیے بھی متعدد اینٹی باڈی ٹریٹمنٹس تیار کیے گئے ہیں مگر ان کی افادیت بہت زیادہ میوٹیشن والی اقسام جیسے اومیکرون کے خلاف گھٹ گئی ہے۔

محققین کے مطابق اینٹی باڈیز کسی وائرس سے ایک مخصوص انداز سے جڑ جاتی ہیں مگر جب وائرس میں تبدیلیاں آتی ہیں تو ایسا نہیں ہوپاتا، یہی وجہ تھی کہ ہم ایسی اینٹی باڈیز کو تلاش کررہے ہیں جو میوٹیشنز کے باوجود وائرس کو ناکارہ بناسکے۔

تحقیق میں جس اینٹی باڈی جز کو شناخت کیا گیا وہ کورونا وائرس کی اقسام ایلفا، بیٹا، ڈیلٹا، اومیکرون اور دیگر کے خلاف مؤثر ثابت ہوا اور اسپائیک پروٹین سے جڑ کر انہیں ناکارہ بنانے میں کامیاب رہا۔

محققین نے کہا کہ وائرس کے کمزور حصوں کی شناخت سے نئے ٹریٹمنٹس کو ڈیزائن کرنا ممکن ہوجائے گا، جیسے ہم نے جس حصے کو دریافت کیا اس میں تبدیلی نہیں آرہی تو مستقبل میں بھی وائرس کی نئی اقسما کے خلاف موثر علاج ممکن ہوسکے گا۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئے۔