چند عام عادات جو آپ کو امراض قلب کا شکار بناسکتی ہیں

ان عادات سے گریز کرنا دل کی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے / فائل فوٹو
ان عادات سے گریز کرنا دل کی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے / فائل فوٹو

یہ تو پہلے سے معلوم ہے کہ مخصوص عادات جیسے تمباکو نوشی سے دل کو نقصان پہنچتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزمرہ کی چند عام عادات بھی دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں؟

جی ہاں واقعی دانتوں کی صفائی، چائے یا کافی کا زیادہ استعمال اور ایسی ہی چند عام عادات دل کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔

غذا کا خیال نہ رکھنا

ماہرین کے مطابق لوگ اکثر صحت بخش اور متوازن غذا کے بارے میں سوچتے ہیں مگر اس کے لیے جو اقدامات کرتے ہیں وہ دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر کچھ افراد کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے صحت کے لیے مفید چکنائی کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں جو دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح لوگ بہت زیادہ مقدار میں کاربوہائیڈریٹس کو غذا کا حصہ بنا سکتے ہیں جس سے جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور شریانوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

ڈائٹنگ سے بھی دل کی شریانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سماجی تنہائی

لوگوں سے دور رہنے کی عادت بھی دل کی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والے افراد میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ 8 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح سماجی طور پر کٹ جانے اور تنہائی کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ 27 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

لوگوں سے دور رہنے سے ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے اور ڈپریشن دل کے لیے نقصان دہ عناصر جیسے فشار خون، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے اور ناقص غذائی عادات کا خطرہ بڑھانے والا مرض ہے۔

دانتوں کی صحت کا خیال نہ رکھنا

دانتوں کے مسائل جیسے مسوڑوں اور دانتوں کی فرسودگی سے دوران خون میں بیکٹریل انفیکشنز کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق منہ میں موجود بیکٹریا کے لیے خون میں سفر کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ دانتوں کو روزانہ 2 بار برش کرنے سے دل کی صحت بھی بہتر ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق منہ کی خراب صحت سے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کا نتیجہ امراض قلب کی شکل میں نکلتا ہے۔

مخصوص ادویات اور سپلیمنٹس

کچھ ادویات سے بھی دل کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے، مثال کے طور پر ADHD کی ادویات سے دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔

سکون آور ادویات سے بلڈ پریشر گھٹ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سر چکرانے جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد میں بلڈ پریشر یا دل کی دھڑکن کی رفتار کے مسائل موجود ہیں انہیں ادویات کے استعمال کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔

سپلیمنٹس سے بھی دل پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، بالخصوص ان افراد کو نقصان پہنچ سکتا ہے جن کو وٹامنز یا ہربل سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کیفین کا زیادہ استعمال

بہت زیادہ مقدار میں کافی یا چائے کا استعمال بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ان مشروبات میں موجود کیفین سے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔

ایسا ہونے سے خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔

کیفین کی روزانہ 300 سے 400 ملی گرام مقدار کو محفوظ سمجھا جاتا ہے اور اس سے زیادہ مقدار سے منفی اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تناؤ کا خیال نہ رکھنا

جب جسم کو ہر وقت تناؤ کا سامنا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں جسم کے اندر ورم بڑھتا ہے اور مخصوص ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے۔

ان عناصر سے جسم کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں، جیسے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، ہائی کولیسٹرول، موٹاپے، انسولین کی مزاحمت اور دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دائمی تناؤ سے جسم میں بلڈ کلاٹنگ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، بلڈ کلاٹ سے ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ویسے تو تناؤ سے بچنا ممکن نہیں مگر یہ ضروری ہے کہ اس کی روک تھام کی جائے، مراقبہ، یوگا، ورزش اور سکون پہنچانے والے مشاغل اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

بہت کم یا بہت زیادہ نیند

بیشتر افراد کو ہر رات 7 سے 8 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، مگر بہت زیادہ یا بہت کم نیند دل کی شریانوں کے امراض بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

نیند کا دورانیہ ہی نہیں بلکہ اس کا معیار بھی اہمیت رکھتا ہے، اچھی اور گہری نیند دل کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

غیرمعیاری نیند سے ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا خطرہ بڑھتا ہے۔