وہ عام چیز جو آپ کی یادداشت کو کمزور کرسکتی ہے

ایک تحقیق میں یہ بتایا گیا / فائل فوٹو
ایک تحقیق میں یہ بتایا گیا / فائل فوٹو

اگر آپ روزانہ سافٹ ڈرنکس پینا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت یادداشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سدرن سانتا کترینا یونیورسٹی کی تحقیق میں چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں دریافت کیا گیا کہ سافٹ ڈرنکس پینا معمول بنانے سے 68 دن بعد ان جانوروں کے دماغ میں حیاتیاتی تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے ان کے رویوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہوا تھا کہ ان مشروبات کا زیادہ استعمال مختلف امراض اور دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس نئی تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ یہ مشروبات کس حد تک دماغ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تحقیق کے لیے چوہوں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک کو سافٹ ڈرنکس کو استعمال کرایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو پانی تک محدود رکھا گیا۔

یہ سلسلہ 67 دن تک برقرار رکھا گیا اور 68 ویں دن دماغی ٹشوز کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جبکہ چوہوں کی یادداشت اور رویوں کے مختلف ٹیسٹ بھی کیے گئے، تاکہ دونوں گروپس میں کسی فرق کی شناخت کی جاسکے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سافٹ ڈرنکس کے استعمال سے چوہوں کی یادداشت متاثر ہوئی جبکہ ٹشوز کے تجزیے میں تکسیدی تناؤ کو دریافت کیا گیا۔

اس سے عندیہ ملا کہ یہ تکسیدی تناؤ حیاتیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جبکہ کم عمر چوہوں کے رویے بھی بدل سکتے ہیں۔

ان مشروبات میں چینی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مگر محققین کے خیال میں بلڈ گلوکوز کی سطح دماغی تنزلی میں کردار ادا نہیں کرتی۔

محققین اس حوالے سے مزید تحقیق کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں کیونکہ ابھی حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انسانوں میں بھی یہی اثرات دیکھنے میں آسکتے ہیں۔

مگر انہوں نے کہا کہ سافٹ ڈرنکس کا کم از کم استعمال کرکے دماغی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانا ممکن ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے Experimental Gerontology میں شائع ہوئے۔