مضر کولیسٹرول کو ختم کرنے والی ادویات کو ترک کرنا نقصان دہ قرار

اسٹیٹِنس ایسی ادویات کا مجموعہ ہوتا ہے جو جگر کو مضر کولیسٹرول بنانے سے روکتی ہیں

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اسٹیٹِنس کا استعمال زندگی بھر جاری رکھنا چاہیئے۔

لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق وہ مریض جو کولیسٹرول کو ختم کرنے والی ادویات استعمال کرنا بند کردیتے ہیں وہ اپنے دل کو فراہم کی جانے والی حفاظت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایسا ان سستی گولیوں کے بنیادی فوائد کی وجہ سے ہوتا ہے جو بعد کی زندگی سے پہلے دِکھائی نہیں دیتے۔

بلند فشار خون کے سبب دل کو درپیش مسائل کو ختم کرنے کے لیے تقریباً 80 لاکھ برطانوی اور 3 کروڑ 20 لاکھ امریکی روزانہ اسٹیٹِنس کھاتے ہیں۔

لیکن تقریباً نصف مریضوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے نقصانات کا سوچ کر یہ دوا کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان نقصانات میں پٹھوں میں درد، ہاضمے میں مسائل اور سر درد شامل ہیں۔

کوئین میری یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر رُنگو وُو کا کہنا تھا کہ معالج کے مشورے کے بغیر علاج کو روکنا معقول فیصلہ نہیں ہوتا۔

اسٹیٹِنس ایسی ادویات کا مجموعہ ہوتا ہے جو جگر کو مضر کولیسٹرول بنانے سے روکتی ہیں۔

وقت کے ساتھ مضر کولیسٹرول میں اضافہ سخت اور تنگ شریانوں اور امراضِ قلب کا سبب بن سکتا ہے، جو دنیا میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

فی الحال جن لوگوں میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے یا ماضی میں ان کے خاندان میں کسی کو ہوئی ہوتی ہے تو معالج ان کو اسٹیٹِنس لکھتے ہیں۔

وہ مریض جو یہ ادویات لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کا کولیسٹرول چند ہفتوں میں واپس تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔تاہم، کئی لوگ نقصانات کے ڈر سے اس کا باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے یا استعمال ہی ترک کردیتے ہیں۔