رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

رات گئے تک جاگنے والے افراد میں امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ صبح جلد اٹھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم کی چربی کو توانائی کے لیے گھلانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں جو لوگ صبح جلد جاگتے ہیں، ان کے جسم توانائی کے لیے چربی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور یہ افراد رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں دن میں زیادہ متحرک بھی ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد میں چربی زیادہ آسانی سے جمع ہوجاتی ہے۔

نتائج سے یہ وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ زیادہ کیوں ہوتا ہے۔

امریکا کی Rutgers یونیورسٹی کی تحقیق میں درمیانی عمر کے 51 افراد کو شامل کیا گیا تھا جو موٹاپے کے شکار تھے۔

ان افراد کو صبح جلد جاگنے یا رات گئے تک جاگنے کے مطابق گروپس میں تقسیم کیا گیا اور پھر ان کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ ایک ہفتے تک کی گئی جبکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ ان کے جسم توانائی کے لیے کس ذریعے کو ترجیح دیتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ صبح جلد جاگنے والے افراد کا جسم خون میں انسولین کی مقدار کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتا ہے جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ چربی گھلاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والے افراد کے جسم انسولین کے حوالے سے کم حساس ہوتے ہیں اور چربی کی بجائے کاربوہائیڈریٹس کو توانائی کے لیے ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو فرد رات گئے تک جاگنے کا عادی ہوتا ہے وہ بستر پر تاخیر سے جاتا ہے مگر اپنے روزگار یا بچوں کے لیے جلد جاگ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی گھڑی متاثر ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Experimental Physiology میں شائع ہوئے۔