دماغ کو ہلکی بجلی دینے سے ایک ماہ تک یادداشت بہتر بنانے کا کامیاب تجربہ

بوسٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے عمررسیدہ افراد میں بجلی کی رو سے ان میں ورکنگ اور لانگ ٹرم میموری بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ فوٹو: فائل

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کو دی جانے والی ہلکی برقی سرگرمی سے حافظہ بہتر ہوجاتا ہے جس کے اثرات لگ بھگ ایک ماہ تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

اس ضمن میں ڈبل بلائنڈ مطالعہ کیا گیا ہے جس میں 55 سے 88 برس کے 150 بزرگ شامل کیے گئے تھے۔ تمام افراد کو بجلی کی ہلکی رو کھوپڑی میں اس طرح دی گئی تھی کہ وہ اندر پہنچ کر دماغ کو تحریک دے سکے۔ 20 منٹ روزانہ کے حساب سے مسلسل چار روز تک ’ٹرانس کرینیئل آلٹرنیٹنگ کرنٹ‘ دیا گیا۔ اس طرح صوتی اور زبانی عملی اور طویل المدتی یعنی لانگ ٹرم میموری بہتر ہوئی۔

یہ مطالعہ بوسٹن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کیا ہے جس کی تفصیل نیچر نیورو سائنس میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق لو فریکوئنسی ماڈیولیشن کی بدولت دماغی گوشے پیریئٹل کارٹیکس سے پر اثرپڑتا ہے۔ اس طرح تیسرے اور چوتھے روز روزمرہ امور کی یادداشت (ورکنگ میموری) بہتر ہوئی اور ایک ماہ بعد بھی اس کے اثرات رہے۔

تحقیق کے مطابق جب ہائی فریکوئنسی برقی سرگرمی دی گئی تو دوسرے اور چوتھے روز اور ایک ماہ بعد طویل المیعاد یادداشت اچھی ہوئی۔

اس طرح معلوم ہوا کہ کم مدت اور طویل مدت کی یادداشت دونوں کو ہی دماغی برقی سرگرمی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے بس اس ضمن میں دماغ کے درست مقام اور بجلی کی فریکوئنسی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

توقع ہے اس سے الزائیمر اور ڈیمنشیا کے مریض بھی استفادہ کرسکیں گے۔