خراٹے لینے والے افراد میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

خراٹے لینے والے افراد میں کینسر جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ انتباہ سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

Uppsala یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ obstructive sleep apnea (او ایس اے) کے نتیجے میں کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اوبیسٹریکٹیو سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی یا الکحل کا استعمال کرنے والے، موٹاپے یا ذیابیطس کے شکار افراد میں او ایس اے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 62 ہزار سے زیادہ مریضوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور دریافت ہوا کہ او ایس اے کے شکار افراد کا جسم رات میں آکسیجن کی کمی کا شکار ہوتا ہے جبکہ خون کی شریانوں میں بلڈ کلاٹس کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ رات میں جسم کے لیے آکسیجن کی کمی کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

تحقیق کے لیے مریضوں کے 2 گروپس بنائے گئے تھے جن میں سے ایک او ایس اے کے مریضوں کا تھا جن میں کینسر کی تشخیص ہوچکی تھی جبکہ دوسرا گروپ کینسر سے محفوظ او ایس اے کے مریضوں کا تھا۔

تحقیق کے دوران تمام عناصر کو مدنظر رکھنے پر دریافت ہوا کہ کینسر کے شکار افراد کی نیند بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ ان میں او ایس اے کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔

محققین نے کہا کہ تحقیق میں یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ او ایس اے کی بیماری براہ راست کینسر کا باعث بنتی ہے بلکہ اس کا تعلق ثابت ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب وہ مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج European Respiratory Society کی کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔