آواز اور بلبلوں سے زخم پٹی کی صلاحیت بڑھانے میں نمایاں کامیابی

کینیڈا اور جرمن ماہرین نے الٹراساؤنڈ اور بلبلوں کی مدد سے بینڈیج کے چپکنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ تصویر میں ایک ہائیڈروجل پر الٹراساؤنڈ ڈالی جارہی ہے۔ فوٹو: فائل

پٹیاں، پھاہے اور بینڈیج طبی دنیا میں عام استعمال ہوتی ہیں لیکن انہیں چپکائے رکھنا یا چپکنے کی صلاحیت کنٹرول کرنا محال ہوتا ہے۔ اب آواز کی لہروں اور باریک بلبلوں کی مدد سے نہ صرف نم دار جلد پر بھی پٹیوں کو چسپاں رکھا جاسکتا ہے بلکہ ان میں چپکنے کی صلاحیت بھی قابو کی جاسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور دیگر جامعات کے سائنسدانوں نے یہ ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس میں الٹراساؤنڈ اور بلبلوں کی مدد سے نہ صرف پٹیوں میں چپکنے کی صلاحیت کو بڑھانا ممکن ہے بلکہ ضرورت کے لحاظ سے چپکنے والے مادے کی افادیت کم یا زیادہ کی جاسکتی ہے۔

مکِ گِل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر جیان یاؤ لائی نے کہا کہ اس کی تیاری میں کئی اداروں کے مختلف شعبوں کے ماہرین نے حصہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پسینے یا نمی والی جلد پر پٹی بار بار پھسل جاتی ہے۔ اب نئی ٹیکنالوجی انہیں مضبوطی سے ایک جگہ چپکائے رکھتی ہے۔

سائنسدانوں نے دیکھا کہ بینڈیج کی اطراف الٹرا ساؤنڈ ڈال کر اس کے اندر موجود چپکنے والی گوند کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے اور وہ جلد یا ٹشوز سے اچھی طرح پیوست ہوجاتی ہے۔

دوسری جانب جرمن ماہرین نے خردبینی بلبلوں کی مدد سے گوند کو مزید مضبوطی سے چپکنے کے قابل بنایا ہے اور اس سے زخم بھرنے کے عمل میں کئی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

دونوں ٹیموں نے چوہوں پر اس کے تجربات کیے ہیں جس سے پرامید نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں پٹیوں کی گوند کو بلبلوں سے تحریک دے کر ضرورت کے تحت اندر چھپی دوا بھی خارج کی جاسکتی ہے۔ پھر بلبلوں کو کینسر، ٹشو کی مرمت اور درست ترین ادویہ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔