بے ہوش قرار دی گئی خاتون، دراصل مجسمہ سازی کا فن پارہ

کرسٹینا نامی خاتون کا بےجان مجسمہ دیکھنے میں ایک حقیقی خاتون جیسا دکھائی دیتا ہے۔ فوٹو: اسکائی نیوز

لندن کی ایک آرٹ گیلری میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیش آئی جب پولیس وہاں ایک بے ہوش خاتون کی مدد کو پہنچی تو معلوم ہوا کہ وہ حقیقی خاتون نہیں بلکہ ڈپریشن کو ظاہر کرنے والا ایک مجسمہ تھا جسے بہت حقیقی انداز میں بنایا گیا تھا۔

سوہو کے علاقے میں لیز ایمپوریئم سےوابستہ آرٹ گیلری میں دو پولیس افسران آگئے اور وہ کسی اجازت کے بغیر اندر آن دھمکے۔ ان کا اصرار تھا کہ اندر ایک خاتون بے ہوش ہیں جسے مدد کی ضرورت ہے۔ اس پر گیلری کی انتظامیہ نے مسکراتے ہوئے پولیس کو اس خاتون کے پاس پہنچایا جو فوم، ٹیپ اور کپڑے سے بنی ہوئی تھی تاہم اسے بہت حقیقی روپ دیا گیا تھا۔

لندن کی اس گیلری میں رکھے اس فن پارے کا نام ’کرسٹینا‘ رکھا گیا ہے جو ایک بےجان مجسمہ ہے۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ انہیں ایک فون کال موصول ہوئی ہے جس میں ایک گیلری میں بے ہوش خاتون کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

اس مجسمے میں ایک خاتون کو پیلی ٹریننگ شرٹ اور پتلون پہنے دکھایا گیا ہے جو اپنی گردن جھکا کر میز پر سر ٹکائے بیٹھی ہیں۔ اس کے الجھے ہوئے بال چہرے کو چھپا رہے ہیں۔ میزپر ایک سوپ پڑا ہے اور یہ پورا منظر اس خوبصورتی اور تفصیل سے بنایا گیا ہے کہ اس پر حقیقی اداس خاتون کا گمان ہوتا ہے۔ یہ فن پارہ امریکی فنکار مارک جینکنس نے بنایا ہے۔