بے خوابی کا علاج کرنے والے ناک کے پہلے اسپرے کی انسانی آزمائش

ناک کے اسپرے پرمبنی بے خوابی کی پہلی دوا کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ فوٹو: فائل

ماہرین نے ناک کی پھوار (نیزل اسپرے) بنائی ہے جو بے خوابی کے ان مریضوں کا علاج کرسکتی ہیں جو رات سےصبح تک جاگتے ہوئے گزارتے ہیں۔

اگرچہ بےخوابی (سلیپ ایپنیا) کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے کیفیت ’آبسٹرکٹوو سلیپ ایپنیا‘ (او ایس اے) کہلاتی ہے جس میں دورانِ نیند سانس کم ہونے سے مریض کئی بار بیدار ہوجاتا ہے۔ علاج نہ کرنے کی صورت میں یہ کیفیت صحت اور زندگی کو شدید متاثرکرسکتی ہے۔

فِلنڈرز یونیورسٹی کے ڈینی ایکارٹ کے مطابق مریض کو سوتے وقت سی پی اے پی (کنٹینیئس پوزیٹو ایئروے پریشر) مشین استعمال کرنا پڑتی ہے جو دباؤ کے تحت سانس کی نالیاں کھولےرکھتی ہے۔ لیکن یہ بہت مہنگا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر دس میں سے ایک شخص اوایس اے میں مبتلا ہونے کے باوجود اس آلے کو استعمال نہیں کرتے کیونکہ اسے پہننا اور لگانا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

اب ڈینی اور ان کے ساتھیوں نے ایک دوا بنائی ہے جو ناک کے ذریعے سانس کی نالیوں میں جاکر نہ صرف سانس کی رہ گزر کو ہموار اور پرسکون بناتی ہیں۔ یہ اوپر کی پرت پر عمل کرکے اعصاب کو اس قابل بناتی ہے کہ سانس کی نالی کھلی رہے۔

سائنسدانوں نے 12 ایسے مریض بھرتی کئے جن میں سے چھ کو فرضی اسپرے اور بقیہ کو دوا پر مبنی ناک کے اسپرے دیئے گئے۔ دونوں گروہ نے کئی رات تک سونے سے پہلے اسے آزمایا تو بہت امید افزا نتائج سامنے آئے۔

جن افراد نے ناک کے ذریعے دوا کا اسپرے استعمال کیا تھا ان کی تنفسی رہ گزر ساری رات کھلی رہیں اور وہ سکون سے سوتے رہے۔ اس دوا کی بدولت سانس کی نالیوں کی دیوار پر لگے ریسپٹر کو سرگرم کیا جاتا ہے اور یوں سانس کی نالیاں کھلی رہتی ہیں۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بہت کم مریضوں پر آزمانے کے باوجود اس کے بہت حوصلہ افزا نتائج ہیں۔ اب ماہرین اسے مزید افراد پر آزمائیں گے۔