بچوں میں بعض اقسام کی غذائی قلت سے اسٹنٹنگ ، ویکسین سے روکی جاسکتی ہے

چوہے کے بچوں پر ای کولائی کے زہر روکنے والے ٹیکے کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانی بچوں میں اسٹنٹنگ کی وجہ بنتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ایک تحقیق میں کہا ہے کہ غذائی قلت کی کچھ اقسام کے شکار چھوٹے قد کے حامل بچوں کی یہ کیفیت ویکسین دینے سے بھی روکی جاسکتی ہے۔

اگرچہ ڈائریا اور پیچش اب عالمی وبا کا حصہ نہیں رہا لیکن اب بھی سال میں 45 لاکھ بچے اپنی پانچویں سال سے قبل ہی پیچش کے شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے لاتعداد بچے ہیں جو غذائی قلت کے شکار ہوکر اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ پاتے۔ عمر کے لحاظ سے چھوٹے رہ جانے والے اس مرض کو کوتاہ قد یا اسٹنٹنگ کہا جاتا ہے۔

غریب اور پسماندہ ممالک میں بچے جب بار بار اسہال کا شکار ہوں تو وہ مستقل غذائی کمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ان کی ہڈیاں اور جسمانی نظام متاثر ہوتا ہے اور اسی عمر کے تندرست بچے کے مقابلے میں ان کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بچے کمزور امنیاتی نظام کی وجہ سے بار بار بیمار ہوتے رہتے ہیں۔

سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے انسانی اور چوہوں کے خلیات پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اگر بچوں کو ڈائریا کی وجہ بننے والے ای کولائی بیکٹیریا کے زہر سے بچانے والی ویکسین لگادی جائے تو آنتوں اور نظامِ ہاضمہ کو مزید تباہی سے روکا جاسکتا ہے ۔ یوں ایک ویکسین سے بھی اس کیفیت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق جریدہ نیچر کمیونکیشن میں شائع ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایسی کوئی ویکسین بن جاتی ہے تو اس کی بدولت عالمی طور پر بچوں کو نہ صرف پانچ سال سے زائد عرصے تک زندہ رکھا جاسکتا ہے بلکہ وہ تندرست رہتے ہوئے بقیہ زندگی گزارسکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ اسہال اور پیچش کی وجہ بننے والا ای کولائی بیکٹیریئم دو طرح کے زہریلے کیمیکل خارج کرکے بچے کو بیمار کرتا ہے۔ دو سال قبل اسی تحقیقی ٹیم سے وابستہ ڈاکٹر فلیکن اسٹائن اور ال اولا شیخ نے بتایا تھا ای کولائی کا ایک زہر آنتوں میں بعض جین کے اظہار(ایکسپریشن) کو بڑھاتا ہے اور یوں بیکٹیریا آنتوں کی دیواروں سے چپک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بچہ بار بار پیچش کا شکار ہوکر بد حال ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے اس مضر زہریلے جزو کا بغور مطالعہ کیا ہے اور چوہوں پر ایک ویکسین آزمائی جو خود ای کولائی کے زہر سے ہی بنائی گئی تھی۔ اس کا ٹیکہ جب چوہے کے بچے کو لگایا گیا تو اس سے آنتوں کی مزید تباہی تھم گئی، وہ کم بیمار ہوا اور اس میں بونا پن یا اسٹنٹنگ بھی کم ہوگئی۔

پھر انہوں دودھ پلانے والی چوہیا کو بھی اس ویکسین کا ٹیکہ لگایا تو ان کے دودھ سے اینٹی باڈیز بچوں تک منتقل ہوگئی جو ایک نمایاں کامیابی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ماں کے دودھ سےبچوں کی آنتیں بھی محفوظ رہیں اور ان میں پیچش اور اس سے بڑھنے والی غذائی قلت میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین اگلے مرحلے میں مزید شواہد جمع کریں گے جو آخر کار بچوں میں ای کولائی روکنے والی ویکسین کی صورت میں منتج ہوں گے۔