ایک نئی دوا الزائمر امراض کے علاج کیلئے مؤثر دریافت

یہ دوا امریکا اور جاپان کی کمپنیوں نے تیار کی ہے / فائل فوٹو
یہ دوا امریکا اور جاپان کی کمپنیوں نے تیار کی ہے / فائل فوٹو

الزائمر امراض کے شکار افراد کا علاج اب کافی حد تک ممکن ہوسکے گا کیونکہ ایک نئی دوا دماغی تنزلی کی رفتار میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

الزائمر ایسا مرض ہے جس کا ابھی کوئی مؤثر علاج موجود نہیں اور یہ آہستہ آہستہ مریض کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔

مگر دماغی تنزلی کا باعث بننے والی اس بیماری کے خلاف ایک نئی دوا کے کلینیکل ٹرائل کے نتائج کافی حوصلہ افزا رہے ہیں۔

جاپانی کمپنی Eisai اور امریکی کمپنی Biogen نے ملکر اس دوا کو تیار کیا اور لندن کالج یونیورسٹی کے ماہرین نے اس کے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا کہ بیماری کے ابتدائی مرحلے میں دوا کے استعمال سے دماغی تنزلی رفتار سست ہوجاتی ہے۔

ٹرائل کے نتائج سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ الزائمر امراض کا علاج ممکن ہوسکے گا۔

اس ٹرائل میں 18 سو کے قریب مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور ابتدائی نتائج ستمبر میں جاری ہوئے تھے۔

ٹرائل کے مکمل نتائج سے معلوم ہوا کہ 18 ماہ تک دوا کے استعمال سے مریضوں کی دماغی تنزلی کی رفتار میں 27 فیصد تک کمی آئی، جسے ماہرین نے اہم قرار دیا۔

محققین کے مطابق یہ پہلی دوا ہے جو الزائمر کے امراض کے لیے حقیقی علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کلینیکل فوائد کسی حد تک محدود ہیں مگر توقع ہے کہ وقت کے ساتھ یہ زیادہ نمایاں ہوجائیں گے۔

lecanemab نامی دوا ایک مونوکلونل اینٹی باڈی دوا ہے جو الزائمر کا باعث بننے والے پروٹین amyloid کو ہدف بناتی ہے۔

یہ ابھی تک واضح نہیں کہ اس پروٹین کی کتنی مقدار الزائمر امراض کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے مگر اس بیماری کی موروثی اقسام سے متاثر مریضوں کے لیے یہ دوا مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس بیماری کی روک تھام کی جانب پہلا قدم ہے، جس کے بعد اس حوالے سے زیادہ مفید تحقیق کا راستہ کھل جائے گا۔

اس ٹرائل کے نتائج جرنل نیو انگلینڈ آف جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے۔