اکثر افراد کی جانب سے غذا میں کی جانے والی وہ غلطی جو دماغ کے لیے تباہ کن

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

دماغی تنزلی کا باعث بننے والا مرض ڈیمینشیا دنیا بھر میں تیزی سے عام ہورہا ہےاور ایک تخمینے کے مطابق عالمی سطح پر ساڑھے 5 کروڑ سے زیادہ افراد میں اس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

ڈیمینشیا کے شکار افراد میں یادداشت سے محرومی، زبان کے مسائل اور دماغی افعال بہت زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک عام غذائی عادت ڈیمینشیا کا شکار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ڈیمینشیا کا ابھی کوئی علاج موجود نہیں، اسی لیے ابتدائی مرحلے میں اس کی تشخیص اور علامات کو کنٹرول کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔

سابقہ تحقیق رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ طرز زندگی کے عناصر بشمول غذا، نیند اور ورزش دماغی افعال کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

چین میں ہونے والی اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال یادداشت کے مسائل کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ غذائی پوٹاشیم کی زیادہ مقدار کے استعمال سے دماغی افعال کو درست رکھنا ممکن ہوسکتا ہے۔

نمک اور پوٹاشیم دونوں ایسے غذائی جز ہیں جو صحت کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ نتائج کو دیکھتے ہوئے ہم تجویز کرتے ہیں کہ غذا میں نمک کا استعمال کم کیا جانا چاہیے جبکہ پوٹاشیم کے استعمال کو بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج کے مطابق پوٹاشیم دماغی افعال کے لیے بہت مفید غذائی جز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق میں یہ تعین کیا جائے گا کہ درمیانی عمر میں کتنی مقدار میں نمک اور پوٹاشیم کا استعمال دماغی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل Global Transitions میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نمک کے زیادہ استعمال سے دماغی خلیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نمک کے زیادہ استعمال سے ایک پروٹین tau میں کیمیائی تبدیلی آتی ہے جس کے باعث یہ دماغ میں اکٹھا ہونے لگتا ہے۔

دماغ میں اس پروٹین کے اجتماع سے ڈیمینشیا اور الزائمر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پوٹاشیم دماغی افعال کو درست رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔