اپنے بیٹے کیساتھ اسکول میں تعلیم حاصل کرنیوالی خاتون

پاروتی سندر ساتویں جماعت میں پڑھتی ہیں جبکہ ان کا 11 سال کا بیٹا ریشام اسی اسکول میں چھٹی کلاس کا طالبعلم ہے۔—فوٹو:رائٹرز

پاروتی سندر ساتویں جماعت میں پڑھتی ہیں جبکہ ان کا 11 سال کا بیٹا ریشام اسی اسکول میں چھٹی کلاس کا طالبعلم ہے۔—فوٹو:رائٹرز

آج ہم آپ کو ایسی خاتون کے بارے میں بتارہے ہیں جو اپنے بڑے  بیٹے کے ساتھ اس کے اسکول میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق نیپال سے تعلق رکھنے والی 2 بیٹوں کی ماں پاروتی سنار کم عمری میں شادی ہونے کے باعث تعلیم حاصل نہیں کرسکی تھیں تاہم اب اپنے 11 سالہ بیٹے کے ساتھ اس کے اسکول میں پڑھ رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پاروتی سنار نے 15 سال کی عمر میں اپنے سے 7 سال بڑی عمر کے شخص کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تھی تاہم انہوں  نے پڑھنے کے شوق کو اپنے بیٹے کے ساتھ پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیپال کے پنرباس گاؤں کی رہائشی پاروتی ساتویں جماعت میں پڑھتی ہیں جبکہ ان کا 11 سال کا بیٹا ریشام اسی اسکول میں چھٹی کلاس کا طالبعلم ہے۔

پاروتی اپنے بیٹے کے ہمراہ اسکول کا کام مکمل کرتے ہوئے—فوٹو:رائٹرز
پاروتی اپنے بیٹے کے ہمراہ اسکول کا کام مکمل کرتے ہوئے—فوٹو:رائٹرز

پاروتی کا کہنا ہے کہ مجھے پڑھنے میں مزہ آرہا ہے ،میری جماعت کے سارے بچے میرے اپنے  بچوں کی طرح ہیں لیکن  افسوس ہے کہ مجھے کم عمری میں اپنا اسکول نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب پاروتی کے بیٹے کا کہنا ہے کہ مجھے امی کے ساتھ اسکول جانا اچھا لگتا ہے، ہم  اسکول کے بریک میں ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

گاؤں کے اسکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ پاروتی پڑھائی میں دوسرے طلبہ سے تھوڑی کمزور ضرور ہیں لیکن ان میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے۔

پاروتی کا کہنا ہے کہ میں اتنی تعلیم حاصل کرلوں تاکہ گھر کا حساب کتاب رکھ سکوں۔

پاروتی صبح اٹھ کر پہلے گھر کا کام کرتی ہیں پھربیٹے کو تیار کرکے اس کے ساتھ اسکول جاتی ہیں جبکہ واپس آکر دوباہ گھر کا اور اسکول کا کام مکمل کرتی ہیں۔—فوٹو:رائٹرز
پاروتی صبح اٹھ کر پہلے گھر کا کام کرتی ہیں پھربیٹے کو تیار کرکے اس کے ساتھ اسکول جاتی ہیں جبکہ واپس آکر دوباہ گھر کا اور اسکول کا کام مکمل کرتی ہیں۔—فوٹو:رائٹرز

رپورٹس کے مطابق پاروتی صبح اٹھ کر پہلے گھر کا کام کرتی ہیں پھربیٹے کو تیار کرکے اس کے ساتھ اسکول جاتی ہیں جبکہ واپس آکر دوباہ گھر کا اور اسکول کا کام مکمل کرتی ہیں۔

 پاروتی کا شوہر  خاندان کی کفالت کے لیے بھارتی شہر چنئی میں مزدوری کرتا ہے۔