انسانوں اور پرندوں کے درمیان سڈنی میں جاری عجیب جنگ کی وجہ

ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا / فوٹو بشکریہ میکس پلانک انسٹیٹیوٹ
ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا / فوٹو بشکریہ میکس پلانک انسٹیٹیوٹ

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے نواح میں کچرے کے ڈبے انسانوں اور پرندوں کے درمیان ‘جنگ’ کا باعث بن گئے ہیں۔

طوطوں کی ایک قسم cockatoos اور انسانوں کے درمیان سڈنی کے نواحی علاقوں میں عجیب جنگ جاری ہے۔

سفید رنگ کے ان طوطوں نے سائنسدانوں کو اپنی عقل سے حیران کردیا ہے۔

اس حوالے سے ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ان طوطوں اور انسانوں کے درمیان جنگ کیسے آگے بڑھ رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق ان پرندوں اور انسانوں کے رویوں سے جنگ کا انکشاف ہوتا ہے۔

سڈنی کے قریب ایک قصبہ Stanwell پارک انسانوں اور پرندوں کی اس جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔

وہاں کی رہائشی 21 سالہ Ana Culic نے بتایا کہ یہ طوطے ہر جگہ موجود ہیں اور اگر ہم کچرے کو پھینکنے کے بعد ڈبوں کو بند نہ کریں تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔

Ana Culic کے خاندان نے طوطوں کو ڈرانے کے لیے الوؤں کے مجسمے بھی لگائے مگر کوئی فائدہ نہیں، کچرے کے ڈبوں پر انہوں نے اینٹیں رکھ دی تھیں مگر طوطوں نے انہیں ہٹانے کا طریقہ سیکھ لیا، بلکہ انہوں نے ڈبوں سے تالے کو ہٹانے کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔

ایک اور مقامی رہائشی 42 سالہ میٹ ہوڈو نے بتایا کہ 5 یا 10 سال قبل یہ طوطے ڈبوں کو کھولنا نہیں جانتے تھے مگر اب وہ تیزی سے سیکھ رہے ہیں۔

ایک اور رہائشی کے مطابق پہلے ان طوطوں نے یہ سیکھا کہ ایک اینٹ کو کیسے ڈبوں کے اوپر سے ہٹایا جاتا ہے اور پھر ایک بھاری پتھر کو ہٹانا بھی سیکھ لیا، اب تو لگتا ہے کہ انہیں روکنے کے لیے ہمیں تالوں کی مدد لینا ہوگی۔

تحقیق کے مطابق ایک طوطا ڈبے کے ڈھکن کو اپنی چونچ سے اوپر اٹھا کر کھول لیتا ہے۔

تحقیق میں ثابت ہوا کہ انسان پرندوں کی جانب سے کچرا پھیلانے سے پریشان ہوجاتے ہیں اور ان کو ڈبوں سے دور رکھنے کے طریقہ بھی سیکھ رہے ہیں مگر یہی کام طوطے بھی کررہے ہیں۔

جرمنی کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کس طرح یہ طوطے ڈبوں کو کھول لیتے ہیں، جبکہ یہ بھی حیران کن ہے کہ انسانوں کی جانب سے ان کی روک تھام کے لیے کیسے مختلف طریقوں کو آزمایا جاتا ہے۔

3283 ڈبوں کا جائزہ لینے پر تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ طوطے ایسے ربڑ کے کھلونوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو انہیں ڈرانے کے لیے ڈبوں پر رکھے جاتے ہیں یا ڈبوں پر سے اینٹوں کو نیچے گرا دیتے ہیں۔

محققین کے مطابق یقیناً یہ جنگ انسانوں نے جیت لینی ہے مگر ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے زیادہ عقلمند طوطوں کی نئی نسل کے وجود میں آنے کا امکان نہیں، البتہ یہ پرندے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان میں تجسس بہت زیادہ ہے اور وہ چیزوں کو کھوجنا پسند کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان ڈبوں کے تحفظ سے یہ طوطے زیادہ ذہین ہوجائیں گے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئے۔