امریکی خاتون باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرائنڈر کو روسی اسلحہ ڈیلر کے بدلے رہائی

فوٹو: فائل

روس نے منشیات کیس میں سزا پانے والی امریکی خاتون باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرائنرکو روسی اسلحہ ڈیلر کے بدلے میں رہا کردیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری مشترکا بیان میں کہا گیا ہےکہ روس امریکا میں قیدیوں کا تبادلہ اماراتی صدر اور سعودی ولی عہد کی ثالثی میں ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی کھلاڑی برٹنی اور روسی شہری وکٹر رہا ہوکر اماراتی دارالحکومت ابوظہبی پہنچ گئے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق امریکی کھلاڑی اور روسی شہری ابو ظبی سے اپنے اپنے ملک روانہ ہوں گے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے برٹنی گرائنر کے بدلے روسی اسلحہ ڈیلر وکٹر بوٹ کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ برٹنی گرائنر روسی جیل سے رہا ہوگئی ہیں، وہ ٹھیک ہیں اور گھر واپس آرہی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر بائیڈن اور نائب صدر کاملہ ہیرس نے امریکی کھلاڑی سے فون پر بات بھی کی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس میں 10 ماہ کی قید سے رہائی کے بعد 32 سالہ برٹنی گرائنر متحدہ عرب امارات پہنچیں گی جہاں سے وہ امریکا کے لیے پرواز میں سوار ہوں گی۔

خیال رہے کہ دو مرتبہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ برٹنی گرائنر کو رواں سال فروری میں ویمن نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی جانب سے روس میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے وقت روسی حدود میں ممنوعہ منشیات (ہشیش آئل) لانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

روسی عدالت نے اگست میں سزا کے خلاف برٹنی کی اپیل مسترد کردی تھی،فوٹو: فائل
روسی عدالت نے اگست میں سزا کے خلاف برٹنی کی اپیل مسترد کردی تھی،فوٹو: فائل

اگست میں روسی عدالت نے انہیں 9 سال سزا کے ساتھ 1 ملین روبل (تقریباً 16 ہزار 990 ڈالر) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

برٹنی گرائنر کو روسی عدالت کی جانب سے سزا کو امریکی صدر جو بائیڈن نے ناقابل قبول فیصلہ قرار دیا تھا۔

اگست میں برٹنی گرائنر کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا، خاتون کھلاڑی نے روسی عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ ان کا کوئی ممنوعہ چیز روس لانے کا ارادہ نہیں تھا، ڈاکٹر کے نسخے پر انہوں نے مذکورہ چیز اپنے ساتھ رکھی تھی۔

امریکا کی جانب سے رہا کیا گیا وکٹر بوٹ کون ہے؟

برٹنی گرائنرکی رہائی کے بدلے امریکا نے روسی اسلحہ ڈیلر وکٹر بوٹ کو رہا کیا ہے جسے امریکا نے ایک اسٹنگ آپریشن میں 2008ء میں تھائی لینڈ سے گرفتار کیا تھا، وکٹر بوٹ پر اسلحہ کی غیرقانونی فروخت کا الزام تھا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سابق سوویت آرمی کے لیفٹننٹ کرنل وکٹر بوٹ کو 2012ء میں امریکی عدالت نے 25 برس قید کی سزا سنائی تھی، اس پر کروڑوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی سازش کا الزام تھا جس کے متعلق امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مبینہ اسلحہ امریکیوں کے خلاف استمعال ہونا تھا۔

وکٹر بوٹ کو 2008 میں  تھائی لینڈ سےگرفتارکیا گیا تھا،فوٹو: فائل
وکٹر بوٹ کو 2008 میں تھائی لینڈ سےگرفتارکیا گیا تھا،فوٹو: فائل

55 سالہ وکٹر بوٹ پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے سیرالیون سے لے کر افغانستان تک اسلحے کی فروخت کے معاہدے کروائے اور تشدد میں کردار ادا کیا۔

وکٹر بوٹ طویل عرصے تک امریکا کو مطلوب تھا امریکی محکمہ انصاف نے اسے اسلحے کا سب سے بڑا ڈیلر قرار دیا تھا اور مغربی میڈیا میں اسے موت کا سوداگر بھی قرار دیا گیا. تاہم اپنی گرفتاری کے آغاز سے ہی وکٹر بوٹ نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔