افغان انخلا کے ایک سال بعد آج ہم پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں،امریکا

امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نیڈ پرائس پریس بریفنگ دیتے ہوئے—فوٹو:فائل

امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نیڈ پرائس پریس بریفنگ دیتے ہوئے—فوٹو:فائل

امریکا نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سالہ امریکی مشن کے خاتمے کو تقریباً ایک سال ہوگیا، افغان انخلا کے ایک سال بعد آج ہم پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم عالمی خطرات،چیلنجوں اور مواقع پر بہتر توجہ دینے کے  قابل ہیں جبکہ فوجی مشن کے خاتمے کا مطلب افغانستان میں سفارتی اور فلاحی مشن کا خاتمہ نہیں ہے۔

امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،حال ہی میں کابل میں القاعدہ لیڈر ایمن الزواہری کی ہلاکت اس کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکل معاشی حالات میں ہم افغان عوام کی فلاحی امداد جاری رکھیں گے جبکہ ہمیں طالبان حکومت سے توقع ہے کہ وہ افغان عوام سے کیے گئے وعدووں کی پاسداری کرے گی۔

نیڈپرائس نے مزید کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں آج نیٹو پہلے سے زیادہ بامقصد ہے  جبکہ ایران کے ایٹمی مسئلے کا سب سے مؤثر حل سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جوہری معاہدےکےلیےایران کوہرصورت ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ترک کرنا ہوگا۔

 اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ چین یک طرفہ طور پر آبنائے تائیوان کے اطرف اسٹیٹس کو بدلنا چاہتا ہے،امریکی ارکانِ کانگریس کے دورہ تائیوان معمول کی بات ہے جس پر چین کا رد عمل حد سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔