اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد برطانوی وزیراعظم کا پہلا بیان سامنے آگیا

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا۔—فوٹو:فائل

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ اراکین پارلیمنٹ نے متاثر کن اور حتمی فیصلہ دے دیا’۔

بورس جانسن نے کہا کہ ‘اب حکومت چاہتی ہے کہ سب مل کر آگے بڑھیں، آج کا نتیجہ سیاست اور ملک کے لیے اچھا ہے، اعتماد کے حوالے سے ساتھیوں نے 2019ء سے بھی بڑا مینڈیٹ دیا’۔

ان کا کہنا ہے تھا کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں، معیشت کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں یکساں مواقع فراہم کرنے کا موقع ملا ہے، اپنے ایجنڈے کو جاری رکھیں گے۔

اپوزیشن لیڈر سر کئیر اسٹارمر نے کہاکہ حکمران جماعت کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں، منقسم کنزرویٹو پارٹی بورس جانسن کا سہارا بنی ہوئی ہے—فوٹو:فائل
اپوزیشن لیڈر سر کئیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ حکمران جماعت کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں، منقسم کنزرویٹو پارٹی بورس جانسن کا سہارا بنی ہوئی ہے—فوٹو:فائل

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سر کئیر اسٹارمر نے کہاکہ ‘حکمران جماعت کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں، منقسم کنزرویٹو پارٹی بورس جانسن کا سہارا بنی ہوئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی مہنگائی، سیاست اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے متحد ہے۔لیبرپارٹی ہی ملک کودوبارہ صحیح راستے پر واپس لاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے سمیت متعدد اسکینڈلز کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے پیر کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ گزشتہ روز ہاؤس آف کامنز میں ہوئی اور ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے شروع ہوا جو 12 بجے تک جاری رہا اس دوران اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ ڈالا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجے سامنے آیا جس میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔

کنزرویٹیو پارٹی کی 1922 کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق 359 میں سے 211 ارکان نے ان کے حق میں جبکہ 148 نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ، بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکار تھے ۔