آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بننے کی عام وجوہات

یہ بہت عام مسئلہ ہے / فائل فوٹو
یہ بہت عام مسئلہ ہے / فائل فوٹو

آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں کی موجودگی ایک عام مسئلہ ہے اور اکثر اس کے ساتھ وہ حصہ پھول بھی جاتا ہے۔

عموماً آنکھوں کے نیچے موجود سیاہ حلقوں کو تھکاوٹ کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے مگر اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔

اکثر یہ سیاہ حلقے تشوش کا باعث نہیں ہوتے اور کسی قسم کا علاج کرانے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

ہوسکتا ہے کہ یہ حلقے آپ کو پریشان کریں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی موجودگی انسانی شخصیت کے لیے معمول کا حصہ ہے۔

البتہ سیاہ حلقوں کی موجودگی کی وجوہات کے بارے میں جان کر ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس حوالے سے مدد مل سکے۔

تھکاوٹ

بہت زیادہ یا کم نیند اور شدید تھکاوٹ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔

نیند کی کمی سے جلد ماند اور رنگت زرد پڑجاتی ہے جس کے باعث جلد کے نیچے موجود ڈارک ٹشوز اور خون کی شریانیں نظر آنے لگتی ہیں۔

نیند کی کمی سے آنکھوں کے نیچے سیال بھی جمع ہونے لگتا ہے جس کے باعث وہ پھولی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

عمر

عمر میں اضافے سے بھی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نمودار ہوجاتے ہیں۔

عمر بڑھنے سے جلد کی موٹائی گھٹنے لگتی ہے اور لچک برقرار رکھنے والی چربی اور ہارمون کی سطح کم ہوجاتی ہے۔

ایسا ہونے سےجلد کے نیچے موجود گہرے رنگ کی خون کی شریانیں زیادہ نمایاں ہوجاتی ہیں اور آنکھوں کے نیچے کا حصہ گہرے رنگ کا ہوجاتا ہے۔

آنکھوں پر دباؤ

گھنٹوں کمپیوٹر یا ٹی وی اسکرین کو دیکھنے سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اس دباؤ سے آنکھوں کے اردگرد موجود شریانیں بڑی ہوجاتی ہیں جس کے نتیجے میں جلد کی رنگت گہرے رنگ کی نظر آنے لگتی ہے۔

الرجی

الرجی ری ایکشن اور آنکھیں خشک ہونے سے بھی سیاہ حلقوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جب الرجی ری ایکشن کا سامنا ہوتا ہے تو ردعمل میں جسم مخصوص کیمیکلز کو خارج کرتا ہے، جس سے مختلف علامات بشمول خارش، سرخی اور آنکھیں پھول جانے کا سامنا ہوتا ہے۔

یہ کیمیکلز خون کی شریانوں کو پھیلا دیتے ہیں جس سے وہ جلد کے قریب زیادہ نمایاں ہوجاتی ہیں۔

پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن

پانی کی کمی بھی سیاہ حلقوں کی ایک عام وجہ ہے۔

جب جسم کو مناسب مقدار میں پانی دستیاب نہیں ہوتا تو آنکھوں کے نیچے موجود جلد کی رنگت ماند پڑجاتی ہے اور آنکھیں دھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

سورج میں زیادہ گھومنا

سورج میں زیادہ گھومنے سے جلد کو رنگت برقرار رکھنے والا ہارمون میلانین زیادہ مقدار میں بننے لگتا ہے۔

اس کے نتیجے میں آنکھوں کے اردگرد کا حصہ سیاہ ہوجاتا ہے۔

جینیاتی عناصر

خاندانی تاریخ بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتی ہے یعنی والدین سے ورثے میں یہ سیاہ حلقے بچوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔

تھائی رائیڈ امراض یا دیگر بیماریوں سے بھی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نمودار ہوسکتے ہیں۔

خون کی کمی

انیمیا یا خون کی کمی کے دوران جسم میں خون کے سرخ خلیات کی مقدار معمول سے کم ہوجاتی ہے، جس کے باعث سر چکرانے، کمزوری، سانس لینے میں مشکلات اور تھکاوٹ جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

انیمیا کے شکار افراد کے جلد کی رنگت بھی زیادہ زرد ہوتی ہے اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے موجود ہوسکتے ہیں۔