آنول نال سے ناقابلِ علاج قلبی بیماری کے شکار بچے کا پہلا علاج

ننھے فنلے پر ٓنول نال سے اخذکردہ اسٹیم سیل کے انجیکشن سے علاج کرنے والے ڈاکٹر میسیمو کیوپاٹو خلیاتِ ساق سے بنی پٹی کے ساتھ ۔ فوٹو: بشکریہ بی بی سی

سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ غالباً انہوں نے ایک ناقابلِ علاج دل کےمریض بچے کا انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ آنول نال (پلیسینٹا) سے شفایاب کیا ہے لیکن وہ اب تک حتمی طور پر اس دعویٰ نہیں کررہے۔ کیونکہ اس عمل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کےپروفیسر میسیمو کیوپاٹو اور ان کےساتھیوں نے ’شاید پہلی مرتبہ ایک ایسے بچے کی جان بچائی ہے‘ جو ناقابلِ علاج قلبی نقص میں گرفتار تھا۔ اس کیفیت کے شکار بچے کا نام فنلے تھا اور پہلی مرتبہ یہ طریقہ اس پر آزمایا گیا ۔ علاج کےلیے ماں کےبطن سے جڑی آنول نلی (پلے سینٹا) کے اندر موجود اسٹیم سیل (خلیاتِ ساق) کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایسے خلیات ہوتے ہیں جنہیں کسی بھی جسمانی عضو کے خلیات میں باآسانی ڈھالا جاسکتا ہے۔

توقع ہے کہ اس پیشرفت سے دل کے پیدائشی عارضوں میں مبتلا بچوں کو باربار تکلیف دہ آپریشن کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ننھا فنلے جب پیدا ہوا تو صرف چار دن میں ہی معلوم ہوگیا کہ اس کے قلب کی دیگر شریانیں درست انداز میں نہیں ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر میسیمو اور ان کے ساتھیوں نے آنول نال سے اخذ کردہ خلیاتِ ساق کے ٹیکےبچے کے دل میں لگائے اور انہیں نشوونما ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ بصورتِ دیگر یہ معاملہ کئی آپریشن سے بھی درست نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ بچے کا ایک آپریشن ناکام ہوچکا تھا۔ یہ آپریشن اس وقت کیا گیا تھا جب فنلے کی عمر صرف 4 روز تھی۔

حیرت انگیز طور پر بچے کے دل کے متاثرہ خلیات کی مرمت ہونے لگی اور اب وہ دوبرس کا ایک تندرست بچہ ہوچکا ہے۔

اسی ٹیم نے خلیاتِ ساق پر مبنی ایک پٹی نما ٹکڑا (پیوند) بھی بنایا ہے جو دیگر بچوں کی زندگی بدل سکتا ہے سے اس کے دل کی مرمت بھی کی جاسکتی ہے۔ توقع ہے کہ اس سے دل کے والو کے درمیان سوراخ کو بھرا جاسکتا ہے تاہم ڈاکٹر میسیمو کے مطابق اگلے دوبرس میں اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔