آج کل زیادہ استعمال کی جانے والی غذا دماغی تنزلی کا باعث قرار

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی تنزلی کی جانب سفر تیز کردیتا ہے۔

یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں چکنائی، تیل اور شکر کا استعمال زیادہ ہوتا ہے تاکہ ان کا ذائقہ بہتر ہوسکے اور زیادہ وقت تک محفوظ رکھنا ممکن ہوسکے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان غذاؤں کا استعمال موجودہ عہد میں کتنا زیادہ بڑھ چکا ہے۔

اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال موٹاپے، دل اور خون کی گردش کے مسائل، ذیابیطس اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اب اس نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ان غذاؤں کا استعمال دماغی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے اور دماغ کے اہم افعال جیسے تفصیلات کا تجزیہ کرنے اور فیصلہ سازی وغیرہ تنزلی کا شکار ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دماغی تنزلی کی رفتار دیگر کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ تیز ہوجاتی ہے جبکہ اہم افعال کی کارکردگی میں 25 فیصد کمی آتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج الزائمر ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

تحقیق میں برازیل کے 10 ہزار شہریوں کا جائزہ 10 سال تک لیا گیا، جن میں سے 50 فیصد خواتین تھیں جبکہ اوسط عمر 51 سال تھی۔

ان افراد کے تحقیق کے آغاز اور اختتام پر دماغی ٹسیٹ کیے گئے اور ان کی غذائی عادات کو جانا گیا۔

یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو میڈیکل اسکول کی اس تحقیق میں شامل محققین نے بتایا کہ برازیل میں روزانہ کی غذا میں لوگ 25 سے 30 فیصد کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں، یعنی بہت زیادہ فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ روزانہ کی 20 فیصد سے زیادہ کیلوریز پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں، ان میں دماغی تنزلی کی رفتار دیگر کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں وہ ان کے دماغ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، تو بازار میں دستیاب الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال ترک کردیں۔

جولائی 2022 کے شروع میں ساؤتھ آسٹریلیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ چربی یا چکنائی والی ٖغذا کا استعمال صرف جسمانی وزن میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ ایسی غذائیں دماغی صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

ساؤتھ آسٹریلیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں زیادہ چربی والی غذاؤں، ذیابیطس اور دماغی تنزلی کے درمیان واضح تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق کے دوران چوہوں کو 30 ہفتوں تک زیادہ چربی والی غذا کا استعمال کرایا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ جسمانی وزن میں اضافے سے دماغی افعال پر بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ ایسے شواہد میں اضافہ ہورہا ہے جو موٹاپے اور ذیابیطس کو الزائمر امراض سے منسلک کرتے ہیں۔

تحقیق کے دوران 8 ہفتوں کی عمر کے چوہوں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا، ایک گروپ کو روایتی غذا استعمال کرائی گئی جبکہ دوسرے کو زیادہ چربی والی غذا دی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ چربی والی غذا کھانے والے چوہوں کا جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھ گیا، انسولین مزاحمت بڑھ گئی جبکہ دماغی حجم بھی سکڑنے لگا۔

محققین کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ ذیابیطس سے متاثر ہونے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔

2021 میں جرنل نیورولوجی میں شائع تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ صحت کے لیے بہترین غذا کا استعمال دماغی صحت کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں کہا گیا تھا کہ پھلوں، سبزیوں، زیتون کے تیل اور مچھلی وغیرہ پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال یادداشت کو بہتر بناتا ہے اور الزائمر امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔